صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 165 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 165

صحيح البخاری جلد ا ۱۶۵ ٣- كتاب العلم بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا فَقَالَ أَتَمَّ هُوَ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن گیا اور آکر فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور پوچھا کہ کیا وہ أَمْرٌ عَظِيمٌ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ یہیں ہے۔ اس پر میں گھبرایا اور باہر نکلاتو اس نے کہا: بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ سن کر فَإِذَا هِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ طَلَّقَكُنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ لَا رحم میں حفصہ کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رورہی صلى الله ہے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق أَدْرِي ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ دے دی ہے؟ کہنے لگی: میں نہیں جانتی۔ پھر میں نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَطَلَّقْتَ ﷺ کے پاس گیا اور میں نے کھڑے کھڑے پوچھا: نِسَاءَكَ قَالَ لَا فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ۔ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ فرمایا: نہیں۔ اس پر میں نے کہا: اللهُ أَكْبَرُ ۔ اطرافه: ٢٤٦٨، 4913، 4915، ٥١٩١، ٥٢١٨، ٥٨٤، ٧٢٥٦، ٧٢٦٣ ہے تشریح : التَّنَاوُبُ فِي الْعِلْمِ : یہ اکیسواں ادب ے تھیلی میں کہ اگر سی وعلم کھنے کے لئے پوری فراغت نہ ملتی ہو تو وہ کسی کے ساتھ باری مقرر کر سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عتبان بن مالک انصاری کے ساتھ باری مقرر کی تھی۔ صحابہ کے شوق کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ کام کاج چھوڑ کر تین چار میل سے آکر سارا دن اسی کا سی کام میں صرف کر دیتے۔ جب علم کے لئے سچی تڑپ ہوتی ہے تو وہ تڑپ : وہ تڑپ بیسیوں ایسے طر۔ سے طریقے خود سمجھا دیتی ہے۔ اس حدیث میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے پر لفظ نزول بولا گیا ہے۔ اس سے آسمان سے اتر نامراد نہیں۔ قَدْ حَدَتْ أَمْرٌ عَظِيمٌ : یہ واقعہ آگے مفصل آئے گا۔ باب ۲۸ الْغَضَبُ فِي الْمَوْعِظَةِ وَ التَّعْلِيمِ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ وعظ اور تعلیم میں ناراضگی کا اظہار کرنا ۔ اگر کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہو ۔ ۹۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ ۹۰ : ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا: سفیان نے أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی خالد سے، ابن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے حضرت قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ ابو مسعود انصاری سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ ایک الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ شخص نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے ممکن نہیں