صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 166
صحيح البخاری جلد ا ١۶۶ ٣- كتاب العلم لَا أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ مِمَّا يُطَوّلُ بِنَا کہ میں باجماعت نماز پڑھوں بوجہ اس کے کہ فلاں فُلَانٌ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شخص ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ میں نے نبی صلى الله عليه کو کسی سی وعظ میں اس سے بڑھ کر غص وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ بڑھ کر غصہ میں نہیں ر يَوْمِئِذٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مُنَفِرُوْنَ دیکھا جتنا کہ اس دن ۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم تو نفرت دلا رہے ہو۔ جو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِم چاہیے کہ وہ ہلکی پڑھائے۔ کیونکہ ان میں پیار بھی ہوتا الْمَرِيْضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ۔ ہے اور کمزور بھی اور حاجت مند بھی۔ اطرافه: ۷۰۲، 7۰۴، 6110، 7159۔ ۹۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۹۱: ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: ابو عامر قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا (عقدی ) نے ہم سے بیان کیا۔ ابو عامر نے کہا: سلیمان بن بلال مدینی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالِ الْمَدِيْنِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ ربیعہ بن ابی عبد الرحمن سے ، ربیعہ نے سے، ربیعہ نے یزید سے، جو ابْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى کہ منبعث کے آزاد کردہ غلام تھے۔ یزید نے زید بن الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ خالد جہنی سے روایت کی کہ نبی ع سے ایک شخص صلى الله علوم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ نے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا بندھن یا فرمایا اس کا برتن اور اس کی تھیلی رَجُلٌ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ پہچان رکھ اور پھر اس کا سال بھر اعلان کرتا رہ۔ اس وِكَاءَهَا أَوْ قَالَ وِعَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ کے بعد اس سے فائدہ اٹھا۔ پس اگر اس کا مالک عَرَّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ آ گیا تو اس کو وہ دیدے۔اس نے کہا: گمشدہ اونٹ۔ رَبُّهَا فَأَذِهَا إِلَيْهِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ اس پر آپ کو غصہ آیا، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے۔ یا کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ قَالَ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا واسطہ؟ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا اس کے پاس اس کا مشکیزہ ہے اور اس کا موزہ بھی سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَرْعَى ہے۔ پانی پر آتا ہے اور درختوں سے چڑتا ہے۔ اسے الشَّجَرَ فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ رہنے دو۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔