صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xxii
مختصر سیرت و سوانح حضرت سید زین العابدین دون الله ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں:- ایک دن دس بجے کے قریب مدرسہ احمدیہ (جو اُس وقت تعلیم الاسلام ہائی سکول تھا) اس کے صحن میں کھڑا تھا کہ چھوٹی مسجد سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز آئی۔میں وہاں پہنچا۔دیکھتا کیا ہوں: ایک شخص امرتسر سے تحقیق کے لیے آیا ہوا ہے اور حضور اس کی خاطر سے تشریف لائے ہیں اور پانچ چھ اور آدمی وہاں جمع ہیں۔اس نے سوال کیا کہ آپ کی بیعت یا صحبت سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے جوش کی حالت میں تقریر فرمانے لگے۔دورانِ تقریر میں بہت ہی گونجتی ہوئی بلند آواز سے فرمایا کہ ایک بچہ جس نے ایک ہفتہ بھی میری صحبت میں گذارا ہے ، وہ مشرق اور مغرب کے مولویوں کو شکست دے سکتا ہے اور اپنے اندر وہ تاثیر رکھتا ہے جو اُن مولویوں میں نہیں۔اس پر آپ کی آنکھیں سُرخ تھیں اور حضور میری طرف دیکھ رہے تھے۔میری عمر اس وقت سترہ سال کی ہو گی۔اس وقت اس مجلس میں میرے سوا اور کوئی بچہ نہ تھا اور اس وقت میں نے یہ دعا کی کہ الہی حضور کے اس قول کا ہی مصداق بنوں۔اس دُعا کرنے کو میں نے اس لیے غنیمت سمجھا کہ میں نے سُنا ہوا تھا کہ اولیاء اللہ کی نظر ایک منٹ میں وہ کچھ کر سکتی ہے کہ سینکڑوں سال کی محنت و اعمال وہ نہیں کر سکتے اور میرا یہ یقین ہے کہ اس وقت جو مجھے مشرق و مغرب میں ( دعوت الی اللہ ) کی توفیق ملی اور بڑے سے بڑے عالم اور بڑے سے بڑے امیر نے میری باتوں کو سن کر میرے ہاتھوں کو چوما ہے، وہ محض مسیح موعود کی اس نظر کی برکت سے تھا۔(ماخوذ از : حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔باب سوم : ذکر حبیب، زیر عنوان صحبت صالحین کے ثمرات“۔صفحہ ۱۰-۱۰۲) ایک بار آپ کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پنکھا کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔حضور اُس وقت بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔اسی طرح حضرت شاہ صاحب کو ایک مرتبہ کبڈی کھیلتے ہوئے دائیں گھٹنے پر سخت چوٹ آگئی تھی۔آپ کے والد محترم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں صحت کے لیے دعا کی درخواست کرتے رہتے تھے ، چنانچہ حضور نے میٹھے تیل اور کافور کی مالش کرنے کا ارشاد فرمایا اور آپ کی ٹانگ خدا کے فضل سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے ٹھیک ہوگئی۔۱۹ء میں میٹرک کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے والد صاحب کے منشاء کے مطابق ڈاکٹری تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایف ایس سی کلاس میں (گورنمنٹ کالج لاہور میں ) داخل ہوئے۔لیکن 1910ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا:-