صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 152
صحيح البخاري - جلد ا ۱۵۲ ٣- كتاب العلم عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا مولی نے کہا: یہی تو وہ تھا جس کو ہم تلاش کر رہے فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللهُ فِي تھے۔تب وہ دونوں اپنے قدموں کے کھوج ڈھونڈتے واپس لوٹے۔خضر اُن کو مل گئے۔پھر ان کا كِتابه وہی حال ہوا جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا۔اطرافه ٧٤، ۱۲۲ ، ،۲۲٦٧، ۲۷۲۸ ، ،۳۲۷۸، ۳۴۰۰، ٣٤۰۱ ٤٧٢٥ ٤٧٢٦، ٤۷۲۷ ٧٤٧٨،٦٦٧٢۔تشریح: الْخُرُوجُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ : امام بخاری نے سفر کے متعلق یہ مستقل باب باندھا ہے اور اس کے ضمن میں وہی حضرت موسی کے سفر والا واقعہ پھر لائے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جو اس کو بیان کیا تھا وہ اور مقصد کے لئے تھا۔یہاں حضرت جابر بن عبدالله (صحابی ) کے سفر کا ذکر کیا ہے۔ایک حدیث کے لئے ان کا ایک مہینہ سفر کرنا بتلاتا ہے کہ تحقیق علم کے متعلق صحابہ کے دل میں کس قدر شوق تھا۔ان کو کسی شخص سے ایک حدیث کا علم ہوا اور یہ کہ اس نے حضرت عبد اللہ بن اُنیس جھنٹی سے وہ حدیث سنی ہے تو حضرت جابر اس پر قناعت نہیں کرتے بلکہ ایک مہینہ بھر کے سفر کی صعوبت برداشت کرتے ہیں۔تا بہ اعتبار سند اس حدیث کے متعلق انہیں زیادہ وثوق ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی صحت کے لئے ان لوگوں کو کس قدر اہتمام تھا۔یہ واقعہ امیر معاویہ کے زمانہ کا ہے جبکہ وہ شام میں تھے۔حضرت عبداللہ بن اُنیس ۵۴ھ میں فوت ہوئے ہیں۔یہ بھی ان ستر انصاریوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے عقبہ میں بیعت کی تھی۔(عمدۃ القاری جزء دوم صفحہ ۷۳) امام ابن حجر نے حضرت ابو ایوب انصاری اور سعید بن مسیب کے سفروں کا ذکر کیا ہے اور ابو العالیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم جب تک خود صحابہ کے منہ سے نہ سن لیتے بھی کسی بات پر تسلی نہ پکڑتے تھے۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۳۰) امام بخاری نے بھی صحابہ وتابعین کی طرح ایک ایک حدیث کی خاطر لمبے لمبے سفر کئے ہیں۔حضرت موسیٰ'' کی ہمت کا بھی پتہ ان کے اس قول سے لگتا ہے: لَا اَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا الكهف: (٢١) سالها سال چلا جاؤں گا جب تک کہ مجمع البحرین تک نہ پہنچ جاؤں۔مجمع البحرین سے کیا مراد ہے، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔علم کی خاطر ان تھک ہمت و کوشش کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ باب باندھا گیا ہے۔تحصیل علم وعلمی تحقیق کے متعلق یہ پندرھواں ادب سکھلایا ہے۔امام بخاری نے بھی احادیث کی صحت کو پایہ یقین تک پہنچانے کے لئے لمبے لمبے سفروں کی مشقت جھیلی ہے۔بَابِ ۲۰ : فَضْلُ مَنْ عَلِمَ وَعَلَّمَ اس شخص کی فضیلت جو علم سیکھے اور سکھائے ٧٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ ۷۹ ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ اسامہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بُرید بن عبداللہ