صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 151
صحيح البخاری جلد ا ۱۵۱ ٣- كتاب العلم فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَدَعَاهُ ابْنُ بارے میں اختلاف کیا۔ان کے پاس سے حضرت عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أبي بن كعب گزرے تو حضرت ابن عباس نے انہیں هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ بلایا اور کہا: میں نے اور میرے اس ساتھی نے آپس میں حضرت موسیٰ کے اس ساتھی کے متعلق اختلاف السَّبِيْلَ إِلَى لُقِيهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ کیا، جس کی ملاقات کرنے کے لئے حضرت موسی اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ نے راستہ دریافت کیا تھا۔کیا آپ نے رسول اللہ فَقَالَ أُبَيٌّ نَعَمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله ﷺ کو اس کا حال بیان کرتے سنا ؟ حضرت اُبی نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ يَقُولُ بَيْنَمَا کہا: ہاں۔میں نے نبی ﷺ کو اس کا حال بیان مُوْسَى فِي مَلَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ کرتے سنا۔آپ نے فرمایا: ایک بار حضرت موسیٰ" جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اس اثناء میں ان کے پاس ایک آدمی آیا۔اس نے پوچھا: کیا آپ مِنْكَ قَالَ مُوسَى لَا فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ کسی کو جانتے ہیں جو آپ سے بڑھ کر عالم ہو؟ وَجَلَّ إِلَى مُوْسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ حضرت موسٰی نے کہا: نہیں۔اس پر اللہ عزوجل نے فَسَأَلَ السَّبِيْلَ إِلَى لُقِيهِ فَجَعَلَ اللهُ لَهُ حضرت موسی کو وحی کی : ہاں، ہمارا بندہ خضر ( تم سے الْحُوْتَ آيَةً وَقِيْلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَّ بڑھ کر عالم ہے) تب انہوں نے اس سے ملنے کا الْحُوْتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ فَكَانَ راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مچھلی کو بطور مُوسَى يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوْتِ فِي نشان کے مقرر کیا اور ان سے کہا: جب تم مچھلی کھو بیٹھو تو الْبَحْرِ فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوْسَی لوٹ آؤ۔تم جلد ہی اس سے مل جاؤ گے۔حضرت موسیٰ یہ مچھلی کے نشان کے پیچھے پیچھے جو سمندر أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي میں تھا، جاتے تھے۔حضرت موسیٰ کے نوجوان نے نَسِيْتُ الْحُوْتَ وَمَا أَنْسَانِيْهُ إِلَّا حضرت موسیٰ سے کہا دیکھا آپ نے! جب ہم نے الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ الْكَهْف : ٦٤) چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی کو بھول گیا اور قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا مجھے شیطان نے ہی آپ کو یاد دلانا بھلا دیا۔حضرت