صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 137
صحيح البخاري - جلد 1 ۱۳۷ ٣- كتاب العلم تیسرا امر وہ عظیم الشان مسئلہ ہے جس کے متعلق بے وقوفوں نے خواہ مخواہ اپنی کوتاہ فہمی اور کم ہمتی سے اختلاف پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو عرفانِ الہی کے آب حیات سے روک رکھا ہے۔ یعنی وہ عرفانِ نبوت جو تجلیات وحی سے حاصل ہوتا ہے۔ امام بخاری نے اس مسئلہ کا نہایت معقول حل خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے کر دیا ہے: مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ۔ جنت سے مراد وہ جنت رضوان ہے جو عارف باللہ کو اس دنیا میں دم نقد حاصل ہوتی ہے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی حالتیں ، صفحہ ۶۴ ۔ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۷۸) چوتھا امر یہ کہ علماء سے مراد وہ لوگ نہیں جو خشیت اللہ سے خالی اور عقل کے کورے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو مذکورہ بالا دو آیتوں کے مصداق ہیں۔ خشیت کے معنی سہم جانا ۔ یعنی وہ اللہ کی عظمت و کبریائی اور جلالی تصرفات کے متعلق اس قدر کامل عرفان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اندر دائمی خشیت کی حالت کو محسوس کرتے ہیں۔ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ خَلَقَ اللهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ (العنکبوت : ۴۴-۴۵) { اور یہ تمثیلات ہیں جو ہم لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ لیکن علم والوں کے سوا ان کو کوئی نہیں سمجھتا۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یقینا اس میں مومنوں کے لیے ایک بہت بڑا نشان ہے } نیز ان علماء سے وہ عالم مراد ہیں جو عقلمند ہیں اور عالم مثال سے حقائق کی تہ تک پہنچتے ہیں اور ایمان کی نعمت حاصل کرتے ہیں۔ یہ سارا عالم ان کے لئے ایک آیۃ اللہ ہوتا ہے۔ تیسری آیت یعنی لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (الملک: (1) سے ان لوگ ن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو کان رکھتے ہوئے پھر نہ پھر نہیں سنتے اور عقل رکھتے ہوئے پھر عقل سے کام نہیں لیتے۔ یہ وہ ظاہر پرست علماء ہیں جو دین کی حقیقت سے نا آشنا ہیں۔ چوتھی آیت یعنی أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ * إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ (الزمر : (۹) یعنی ایک تو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر سجدوں میں گرتا ہے اور اپنے انجام سے لرزاں ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بھی امید رکھتا ہے۔ یعنی اس کے جذبات امید و خوف کے آماجگاہ ہیں۔ کیا ایسے لوگ جن کے علم نے ان کی یہ حالت کر رکھی ہو ان لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں جو بے علم ہیں اور جن کے دل بالکل مردہ ہیں ۔ امام بخاری نے اس آیت کا حوالہ دے کر علم کے نمایاں اثرات کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتلایا ہے کہ علم و علماء سے کیا مراد ہے۔ اس کی تائید میں یہ حدیث بھی لائے ہیں: مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُهُ فِي الدِّينِ۔ یعنی حقیقی بھلائی کا وہی وارث ہوتا ہے جسے دین کی سمجھ دی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود اُسے علم دیتا ہے اور ایک ایسا نور عطا کرتا ہے کہ جس سے ط وہ اپنے دین کی حقیقت پر علی وجہ البصیرت قائم ہو جاتا ہے۔ یہ بات روحانی مشاہدات کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ امام بخاری نے إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلَّم کی حدیث لاکر اس وہم کا ازالہ کیا ہے جو سابقہ حدیث سے پیدا ہو سکتا تھا۔ یعنی جب عرفانِ الہی اللہ تعالیٰ کے ارادے اور فضل کے ساتھ وابستہ ہے تو پھر جد و جہد کی کیا ضرورت ؟ دراصل یہ بھی انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت ہے کہ وہ سیکھنے کے بغیر علم حاصل نہیں کر سکتا اور انسان کی کوشش اس کے فضل کی جاذب ہوتی ہے۔ یہ حدیث مرفوع ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۱۲)