صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 138 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 138

صحيح البخاری جلد ا ۱۳۸ ٣- كتاب العلم پانچواں امر علم کی نشر واشاعت ہے، خواہ وہ کتنی چھوٹی سے چھوٹی بات پر مشتمل ہو۔اس کے متعلق آنحضرت کا ارشاد پہلے گذر چکا ہے۔یہاں صحابی حضرت ابوذر کا قول نقل کیا گیا ہے۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ۔(التوبة: ۳۴) یعنی: اور جو لوگ سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں۔} کے متعلق حضرت ابوذر اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جھگڑا ہوا۔حضرت ابوذر نے یہ دیکھ کر کہ مسلمان سونا چاندی جمع کرنے کے پیچھے پڑگئے ہیں۔اس آیت کی بناء پر ان کو نار جہنم کے وعید سے ڈرایا۔امیر معاویہؓ نے کہا: اس سے مراد وہ مال جمع کرنے والے ہیں جو اہل کتاب میں سے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کے متعلق فرمایا ہے کہ اس موقع پر عبداللہ بن سبا (ایک یہودی جو اپنی ماں کی وجہ سے ابن سوداء کہلاتا تھا، وہ اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر اس غرض سے مسلمان ہوا تھا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے۔اور اس زمانہ کے فتنے اسی مفسد انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں۔) نے بھی حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی اس طبیعت سے فائدہ اُٹھایا۔شام میں سے گذرتے ہوئے اس نے ان سے ملاقات کی اور کہا کہ دیکھئے کیا غضب ہورہا ہے۔معاویہ بیت المال کے اموال کو اللہ کا مال کہتا ہے۔حالانکہ بیت المال کی کیا شرط ہے ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر وہ خاص طور پر اس مال کو مال اللہ کیوں کہتا ہے۔حضرت ابوذر تو آگے ہی اس تلقین میں لگے رہتے تھے کہ امراء کو چاہیے کہ سب مال غرباء میں تقسیم کر دیں کیونکہ مومن کے لیے آرام کی جگہ اگلا جہان ہی ہے اور اس شخص کی شرارت اور نیت سے آپ کو بالکل واقفیت نہ تھی۔بس آپ اس کے دھو کہ میں آگئے اور خیال کیا کہ واقع میں بیت المال کے اموال کو مال اللہ کہنا درست نہیں۔(ماخوذ از اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۲۰۳ تا ۲۰۵) اس صورت حال میں جب حضرت ابوذر کو استعمال ہونے سے منع کیا گیا تو بعض اوقات انہوں نے یہ جواب بھی دیا کہ اگر میری گردن پر تلوار بھی رکھ دو تب بھی کلمہ حق جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ضرور پہنچاؤں گا۔امام بخاری إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ۔(فاطر: ۲۹) کی مثال دیتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مومن کو جرات سے کام لینا چاہیے۔صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں آپ کی باتیں پوری دیانت داری سے لوگوں تک پہنچا سکیں ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں مفصل بیان فرمایا ہے:-۔۔۔حضرت ابوذر کا یہ کہنا درست نہ تھا کہ کسی کو مال جمع نہ کرنا چاہیے۔کیونکہ صحابہ مال جمع نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے اموال خدا کی راہ میں تقسیم کرتے تھے۔ہاں بے شک مالدار تھے اور اس کو مال جمع کرنا نہیں کہتے۔مال جمع کرنا اس کا نام ہے کہ اس مال سے غرباء کی پرورش نہ کرے اور صدقہ و خیرات نہ کرے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی آپ کے صحابہ میں سے بعض مالدار تھے۔اگر مالدار نہ ہوتے تو غزوہ تبوک کے وقت دس ہزار سپاہیوں کا سامان