صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 136
البخاری جلد ا حيح تشریح: ۱۳۶ ٣- كتاب العلم اَنَّ الْعُلَمَاءَ - هُمُ وَرَثَةُ الانْبِيَاءِ : عنوان باب میں أَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَلَةُ الْأَنْبِيَاءِ وغیرہ جن احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے، اگر چہ وہ امام بخاری کی شرط کے مطابق نہیں۔مگر ابوداؤد، ترندی اور حاکم وغیرہ نے انہیں صحیح قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۱) اور قرآن مجید سے بھی ان احادیث کے مضمون کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔۔۔وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ۔(فاطر :۳۳) (ترجمہ: یعنی پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جنہیں چن لیا، انہیں کتاب کا وارث بنا دیا۔۔۔۔۔اور ان میں ایسے بھی ہیں جو نیکیوں میں اللہ کے حکم سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ عنوان باب میں ان کو لے لیا گیا ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ ایک جامع باب باندھا ہے جس میں اصولی طور پر چھا امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔پہلا امر یہ کہ کہنے اور کرنے سے پہلے جانا ضروری ہے فَاعلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ (محمد: (۲۰) { پس جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی لغزش کی بخشش طلب کر، نیز مومنوں اور مومنات کے لیے بھی۔اور اللہ تمہارے سفری ٹھکانوں کو بھی خوب جانتا ہے اور مستقل ٹھکانوں کو بھی۔} اس آیت میں کلمہ شہادت کا اقرار کرنے سے پہلے اس کلمہ کے جاننے کے متعلق حکم دیا۔یعنی یہ کہ فی الواقعہ محبت و اطاعت کے لائق وہی ذات ہے پھر استغفار کاحکم دیا جو ہر کمزوری سے پاک ہونے اور کامل تزکیہ نفس پر دلالت کرتا ہے۔یعنی اس یقینی علم کے بعد پھر استغفار بھی اپنے صحیح معانی میں ہوگی اور اللہ تعالی کے حضور قبولیت کی خلعت پہنے گی۔اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علم کی کیا ضرورت ہے۔ذات باری تعالیٰ کے متعلق صحیح عرفان حاصل ہونے کے بعد انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور اس کو کہاں پہنچنا ہے۔کیونکہ یہ علم در حقیقت دو ہستیوں کے تقابل کا نتیجہ ہوتا ہے۔یعنی اپنا نفس اور اللہ تعالیٰ کی ذات۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کو انسان اپنی صفات پر قیاس کر کے بیان کرتا ہے اور اس سے طبعی طور پر انسان اپنے اندر اس خلا یا نقص کو محسوس کرتا ہے جو اس کے اخلاق میں پایا جاتا ہے اور اس نقص کو محسوس کر کے استغفار کی طرف جھکتا ہے۔یعنی دعا کرتا ہے کہ اس کی ناقص حالت نیچے دبائی جائے اور مخفی کی جائے۔اس مضمون کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: اسلامی اصول کی فلاسفی - تیسرا دقیقہ معرفت صفحه ۹۸-۹۹، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۲-۴۱۳) یہی احساس انسان کو کشاں کشاں اس کامل تزکیہ اور غیر متناہی ترقی کی طرف لے جاتا ہے جس کی طرف وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوم کی آیت کا مضمون اشارہ کرتا ہے۔دوسرا امر یہ کہ انسان کی روحانی اصلاح و ترقی میں جس علم کی ضرورت ہے وہ وہ علم ہے جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے متعلق کامل عرفان۔جس علم کے وارث علماء قرار دیئے گئے ہیں، وہ یہی علم ہے۔قرآن مجید اسی وراثت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔( فاطر:۳۳){ پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جنہیں بچن لیا، انہیں کتاب کا وارث بنا دیا۔بوجہ علم و ہدایت کا ذخیرہ رکھنے اور حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے کے الکتب کونور بھی فرمایا: قَدْ جَاءَ كُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِينٌ۔(المائدة: (١٦) {يقيناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔} کی