صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 135
صحيح البخاری جلد ا ۱۳۵ ٣- كتاب العلم الْعَالِمُوْنَ) (العنكبوت : ٤٤) وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا خشیت کرتے ہیں جو اس کی معرفت رکھنے والے ہیں نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ اور فرمایا: (وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ) یعنی ان السَّعِيرِ الْمُلك : ١١) وَقَالَ هَلْ يَسْتَوِي باتوں کو تو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں اور یہ آیت (وَ الَّذِينَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُونَ قَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ ( یعنی انہوں نے کہا: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم (الزمر: ١٠) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دوزخیوں میں سے نہ ہوتے اور فرمایا: (هَلْ يَسْتَوِى وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقَهْهُ فِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ( یعنی کیا وہ الدِّيْنِ } وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَقَالَ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، برابر ہیں اور نبی أَبُوذَرٍ لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى ﷺ نے فرمایا: جس کی بہتری کا اللہ ارادہ فرماتا ہے هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي اسے دین کی لے ہم سمجھ دے دیتا ہے اور علم تو سیکھنے أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّی سے ہی حاصل ہوتا ہے اور حضرت ابوذر نے کہا: اگر تم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوْا عَلَيَّ تلوار اس پر رکھ دو اور انہوں نے اپنی گردن کی طرف لَأَنْفَذْتُهَا وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اشارہ کیا پھر میں سمجھوں کہ میں؛ کوئی بات جو نبی وَسَلَّمَ لِيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ } وَقَالَ ﷺ سے سنی تھی پہنچا سکتا ہوں ، پیشتر اس کے کہ تم مجھے پر تلوار چلا دو تو میں ضرور ہی اسے پہنچا دوں گا۔ابْنُ عَبَّاسِ كُوْنُوْا رَبَّانِيِّيْنَ (آل عمران: ۸۰) {حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ عُلَمَاءَ ٤٣ وَيُقَالُ اور نبی ﷺ کا یہ فرمانا: جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو ( میری نصیحت ) پہنچا دے ) اور حضرت ابن عباس الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ نے کہا: كُونُوا رَبَّانِيِّينَ کے معنی یہ ہیں کہ { تم حلیم اور فقیہہ اور عالم بنوس } اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ربانی الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ۔وہ ہے جو بڑے علم سکھانے سے پہلے چھوٹے علم سکھا کرلوگوں کی تربیت کرے۔الفاظ " في الدين" فتح الباری مطبوعہ بولاق اور انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۱۰) یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۱۱) ے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(دیکھئے فتح الباری مطبوعہ بولاق جزء اول صفحہ ۱۴۸)