صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 135 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 135

صحيح البخاري - جلد ا ۱۳۵ ٣- كتاب العلم الْعَالِمُوْنَ (العنكبوت : ٤٤) وَقَالُوا لَوْ كُنَّا خشیت کرتے ہیں جو اس کی معرفت رکھنے والے ہیں نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ اور فرمایا: (وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ) یعنی ان السَّعِيرِ الْمُلك :(۱۱) وَقَالَ هَلْ يَسْتَوِي باتوں کو تو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں اور یہ آیت (و الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ قَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ تو ہم (الزمر: ١٠) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ السَّعِيرِ ) یعنی انہوں نے کہا اگر ہم سنتے یا مجھے تو ؟ دوزخیوں میں سے نہ ہوتے اور فرمایا: (هَلْ يَسْتَوِى وہ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ) یعنی کیا وه الدِّينِ } وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَقَالَ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، برابر ہیں اور نبی أَبُوذَرَ لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى ﷺ نے فرمایا: جس کی بہتری کا اللہ ارادہ فرماتا ہے هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي اسے دین کی لے } سمجھ دے دیتا ہے اور علم تو سیکھنے أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى سے ہی حاصل ہوتا ہے اور حضرت ابوذر ابوذر نے کہا: اگر تم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوْا عَلَيَّ تلوار اس پر رکھ دو اور انہوں نے اپنی گردن کی طرف لَأَنْفَذْتُهَا { وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اشارہ کیا پھر میں سمجھوں کہ میں؟ کوئی بات جو نبی وَسَلَّمَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ } وَقَالَ لي سے سنی تھی پہنچا سکتا ہوں ، پیشتر اس کے کہ تم مجھ پر تلوار چلا دو تو میں ضرور ہی اسے پہنچا دوں گا۔ ابْنُ عَبَّاسٍ كُوْنُوْا رَبَّانِيِّينَ (آل عمران : ۸۰) صلى الله صلى الله حُلَمَاءَ فَقَهَاءَ عُلَمَاءَ ۳ } وَيُقَالُ اور نبی ﷺ کا یہ فرمانا: جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو میری نصیحت ) پہنچادے سے } اور حضرت ابن عباس الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ نے کہا: كُونُوا رَبَّانِینَ کے معنی یہ ہیں کہ تم حلیم الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ۔ اور فقیہہ اور عالم بنوسے } اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ربانی وہ ہے جو بڑے علم سکھانے سے پہلے چھوٹے علم سکھا کر لوگوں کی تربیت کرے۔ الفاظ " في الدين" فتح الباری مطبوعہ بولاق اور انصاریہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۱۰) ے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۱۱) سے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ (دیکھئے فتح الباری مطبوعہ بولاق جزء اول صفحہ ۱۴۸)