صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 134 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 134

صحيح البخاري - جلد ا ۱۳۴ ٣- كتاب العلم ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی بات کو اتنا نہ سمجھے جتنا کہ وہ جس کو سننے والا پہنچاتا ہے۔ اوعی تفضیل کے لئے ہے۔ قوت داعیہ وه طبعی استعداد ہے جس کے ذریعہ انسان بات کو تمام پہلوؤں سے سمجھ کر اسے ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے ۔ واقعہ مذکور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج کا ہے جس کا مفصل ذکر کتاب الج (کتاب المناسک ) میں آئے گا۔ یہاں پر جو بات قابل توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ آ یہ ہے کہ آنحضرت ان رت صلی اللہ علیہ وسلم فطرت انسانی کی باطنی حالتوں سے گہرا علم رکھتے ہیں اور اپنے وعظ و نصیحت و تعلیم میں اس فطرت کو مخاطب فرماتے ہیں۔ یہاں جس طریق سے سوالات کر کے لوگوں کے تعجب ، جستجو اور ہے شوق کو اُبھارا ہے وہ بتلاتا ہے کہ آپ خوب جا۔ جانتے تھے کہ ذہن میں بات کے راسخ کرنے کا بہتر سے بہتر ذریعہ کون سا ۔ اور پھر آخر میں جو نصیحت فرمائی ہے وہ ایک ایسی پر معانی جامع نصیحت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بجا فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوۂ حسنہ میں علماء کے لئے تین اور ادب ہیں ۔ ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی تعلیم میں وہ طریقہ اختیار کریں ، جس سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے ۔ دوسرے یہ کہ علم کی نشر و اشاعت میں کوشاں رہیں اور کوتاہی سے کام نہ لیں۔ تیسرے یہ کہ ان کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ وہ ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے ہوا ۔ فَإِنَّ دِمَاءَ كُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرُمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ۔ یعنی جان، مال اور عزت کو کامل طور پر امن نصیب ہو۔ علم کے ضمن میں یہاں تک گیارہ ادب سکھلائے گئے ہیں۔ باب ۱۰ : الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ کہنے اور کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہے لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا: (فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ) إِلَّا الله (محمد : ۲۰) فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ وَأَنَّ پر یہ جانو کہ اللہ کے سوائے اور کوئی معبود نہیں۔ پس الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَرَّثُوا الْعِلْمَ علم سے ابتدا کی ۔ نیز یہ کہ علماء ہی انبیاء کے وارث مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ وَمَنْ سَلَكَ ہیں۔ انبیاء نے علم کا ورثہ چھوڑا جس نے اس کو حاصل طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ الله له کیا، اس نے بڑھ چڑھ کر بھلائی حاصل کی اور جوکسی ایسے راستے پر چلتا ہے کہ جس کے ذریعہ سے وہ علم کو طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ: تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی راہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ آسان کر دیتا ہے۔ اور اللہ جل ذکرہ نے فرمایا: (فَاطِر : ۲۹) وَقَالَ: وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا در حقیقت اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی