صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 133
صحيح البخاري - جلد ا باب :: قَوْلُ النبي ﷺ رَبِّ مُبلغ أَوْعَى مِنْ سَامِع مُبَلَّغِ ٣- كتاب العلم صلى الله سے روایت کی۔ان کے باپ نے نبی ﷺ کا ذکر کیا نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ فہیم ہوتا ہے ٦٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۷ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر نے بِشْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَن ابْن بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ ابن عون نے ہمیں بتلایا۔سِيْرِيْنَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ انہوں نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عَنْ أَبِيْهِ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے باپ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَى بَعِيْرِهِ وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی بِخِطَامِهِ أَوْ بِزِمَامِهِ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا تکمیل یا ) کہا ) اس کی ڈور پکڑ لی۔آپ نے پوچھا: یہ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ سِوَى کون سا دن ہے؟ ہم چپ رہے۔کیونکہ ہم نے اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔آپ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: أَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بے شک۔آپ نے پوچھا: کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ اور نام رکھیں گے۔آپ نے فرمایا: کیا یہ حج کا مہینہ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: بے شک۔آپ نے فرمایا کہ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي یاد رکھو، تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا لِيُبَلِّغ عزتیں تمہارے درمیان ایسی ہی معزز ہیں جیسے کہ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ۔میں۔چاہیے کہ جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو پہنچا دے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حاضر ایسے شخص کو پہنچائے جو اس سے زیادہ یادرکھنے والا، زیادہ سمجھنے والا ہو۔اطرافه ۱۰۵، ۱۷۴۱ ، ۳۱۹۷، ٤٤۰۷ ٤٦٦٢، ٥٥٥٠، ٧٠٧٨ ٧٤٤٧ تشریح: 2222 رُبَّ مُبَلَّغ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ : اس باب کا بھی تعلق اس مضمون کے ساتھ ہے۔یعنی افراد بشریہ میں علم کے قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔یہاں تک کہ ایک شخص جو کسی متکلم کا مخاطب ہوتا ہے؛