صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 132 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 132

صحيح البخاري - جلد ا ۱۳۲ ٣- كتاب العلم أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ تلاؤں؟ ان میں سے ایک نے تو اللہ کے پاس جائے فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ وَأَمَّا الْآخَرُ پناہ لی اور اللہ نے اسے پناہ دی اور وہ جو دوسرا تھا تو فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ اس نے شرم کی اور اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور جو تیسرا تھا تو اس نے منہ پھیر لیا اور اللہ نے بھی اس فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ۔طرفه: ٤٧٤۔تشریح سے منہ پھیر لیا۔أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاثَةِ: ہمارے جسم کی ظاہری وضعات اور حرکات ہماری روحانی حالت پر اپنا اپنا اثر ڈالتی ہیں۔جیسا کہ جسمانی سجدہ روح میں انکساری و عاجزی کی حالت پیدا کر دیتا ہے اور اگر ہم گردن تان کر اور چھاتی اُبھار کر چلیں تو یہ وضع ہم میں ایک قسم کا تکبر اور خود بینی پیدا کر دیتی ہے۔ایسا ہی روحانی حالتیں انسان کے ظاہری اعضاء میں اپنا اپنا اثر ڈالتی ہیں۔یہ وہ فلسفہ ہے جس کو اسلام نے انسان کی اصلاح میں مدنظر رکھا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے : اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۴ تا ۸۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۸ تا۳۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باریک بین نظر نے اس فرق کو ان تین شخصوں کی حالتوں میں ملاحظہ فرمایا اور سیدھے سادھے الفاظ میں اس پر حکمت نکتہ کی طرف صحابہ کو توجہ دلائی کہ ایک نے اللہ تعالیٰ کے پاس پناہ لی۔یعنی وہ دل کے شوق سے آپ کی باتیں سننے کے لئے آگے بڑھا اور آپ کی باتوں کا اثر اس پر اتنا گہرا ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ گیا۔دوسرا شرمایا اور وہیں بیٹھ گیا۔اس کے اس فعل پر اللہ تعالیٰ سے ایک فعل اس کے مشابہ صادر ہوا۔یعنی اس سے درگذر کی۔تیسرے نے منہ پھیرا۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔یعنی اس کی پرواہ نہیں کی۔اِسْتَحْي اور أَعْرَضَ کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی شان میں استعمال کئے گئے ہیں تو وہ اس رو فعل کے اظہار کے لئے جو انسان کے اعمال کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ظاہر ہوتا ہے۔زہر کھانے پر ہلاکت ہوتی ہے۔یہی وہ رو فعل ہے جو قانونِ الہی کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۷۵۔روحانی خزائن جلد ۰ اصفحه ۳۸۹) اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے امام ابن حجر نے بھی فَاسْتَحْيَ اللهُ مِنْہ کے معنی رَحِمَهُ وَلَمْ يُعَاقِبُهُ کئے ہیں۔یعنی اس پر رحم کیا اور اسے سزا نہ دی۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۷) یہاں اغراض سے یہ مراد ہے کہ وہ شخص فیضانِ رسالت سے محروم ہو گیا۔عرب لوگ کثرت سے اس طرح الفاظ کو مقابلہ ومماثلت کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔امام بخاری نے جہاں مجلس علم کے آداب میں سے آٹھویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے، وہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ انسان کو احادیث نبویہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے نفس میں بھی مناسب تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ وہ ضرورت حقہ ہے جس کے بغیر انسان علم سے محروم رہ جاتا ہے۔ظاہری اعراض رحمت الہی سے محرومیت کا باعث ہوتا ہے۔جیسا کہ شوق و توجہ اس رحمت کا وارث بناتے ہیں۔