صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 127 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 127

البخاری جلد ا حيح ۱۲۷ ٣- كتاب العلم وَاحْتَجَّ بَعْضُهُمْ فِى الْقِرَآةِ عَلَى الْعَالِمِ بِحَدِيثِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ : امام بخاری اس حدیث سے وہ مقصد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔جس کے لئے آپ نے یہ باب قائم کیا ہے۔یعنی طریقہ استاد، احادیث کی تدوین میں امام بخاری نے اپنے استادوں کی تصدیق پر بھی حدیث ان کی طرف منسوب کر دی ہے۔حضرت ضمام بن ثعلبہ کی یہ روایت جو یہاں شریک سے بیان کی گئی ہے، اس میں حج کا ذکر نہیں۔یہ جو خیال ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہیں ہوا تھا، ابن حجر نے اس کو بدلائل غلط ثابت کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد کا ہے، جب وفد آپ کے پاس آنے لگے تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰۱) تو اس وقت حج کے متعلق حکم نازل ہو چکا تھا۔خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے انگلی روایت سے جس میں حج کا ذکر ہے، اس اشکال کو دور کر دیا ہے۔قَد أَ جَبتُكَ : اس سے مراد یہ ہے کہ جس کو تم نے بلایا ہے وہ یہ شخص ہے جس نے تمہیں جواب دیا ہے۔إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْئَلَةِ: اس حدیث میں ایک تو اس شخص کا کڑے لہجے میں بے دھڑک پوچھنا اور آپ کا اس کو برا نہ منانا اور اطمینان سے جواب دینا قابل غور ہے اور دوسرا آپ کا اپنے ساتھیوں میں بے تکلفی سے بغیر کسی امتیاز کے بیٹھنا ان لوگوں کے لئے سبق آموز ہے، جو مجلسوں میں امتیاز کے خواہاں ہیں۔اصلی فضیلت تو ذاتی خوبی کے ساتھ ہے۔اَسْاَ لُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ ہر شخص کے لئے دلیل کی بھی نوعیت جدا گانہ رنگ رکھتی ہے۔حضرت ضمام بن ثعلبہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر وثوق ہے کہ انہیں یقین ہے کہ آپ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات کو منسوب نہیں کر سکتے۔اس لئے اگر آپ قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں سچا ہوں تو آپ ضرور بچے ہوں گے۔قسم اس نے اس لئے دی کہ دعوی نبوت عرب لوگوں کی نظر میں ایک ایسا دعویٰ تھا کہ اس کی نظیر ملک عرب میں نہیں پائی جاتی تھی۔یہ در حقیقت فطرت کا طبعی مظاہرہ تھا، جو صاف دل انسان کی ضرورت اور قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔إِنَّ عَلَيْنَا حِجَّ الْبَيْتِ : امام بخاری کبھی کسی روایت کو اس لئے بھی دہراتے ہیں کہ پہلی روایت میں جو کی رہ گئی ہے وہ دوسری روایت سے پوری کر دیں۔چنانچہ سابقہ روایت کی وجہ سے جو اختلاف حج کے متعلق تھا۔وہ اس روایت سے دور کر دیا۔یعنی اُس میں جو حج کا ذکر نہیں تو یہ راوی کی بھول ہے۔أَنَا رَسُوْلُ مَنْ وَرَائِی مِنْ قَوْمِی: صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل عرب اور دیگر ممالک کی طرف اینچی بھیجے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ان قبائل میں سے بنو سعد بن بکر بن ہوازن کا بھی قبیلہ تھا۔پیغام دعوت پہنچنے پر اس قبیلہ نے حضرت ضمائم کو نمائندہ بنا کر بھیجا، جونہایت زیرک اورلسان شخص تھے۔اسی سوال و جواب سے ان کی تسلی ہوگئی اور انہوں نے اپنی قوم کو جا کر تبلیغ کی ار وہ بھی مسلمان ہوگئی۔جیسا کہ حضرت ابن عباس کی روایت میں اس کی تصریح ہے۔اس قوم نے جنگ حنین کے بعد جو کہ شھ میں ہوئی تھی اسلام قبول کیا۔امام ابن حجر نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حضرت ضمام غالبا تھے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۲۰۱)