صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 128
صحيح البخاری جلد ا ۱۲۸ بَابِ : مَا يُذْكَرُ فِي الْمُنَاوَلَةِ مناولہ کے بارہ میں جو ذ کر کیا جاتا ہے ٣- كتاب العلم ( یعنی محدث کا اپنی تصنیف کردہ یا کسی دوسرے محدث سے پڑھی ہوئی کتاب شاگرد کو دے کر حدیثوں کے بیان کرنے کی اسے اجازت دینا ) وَكِتَابُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْعِلْمِ إِلَى الْبُلْدَانِ اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر شہروں کی طرف بھیجنا اور وَقَالَ أَنَسٌ نَسَخَ عُثْمَانُ الْمَصَاحِفَ حضرت انس کہتے تھے: حضرت عثمان نے قرآن مجید فَبَعَثَ بِهَا إِلَى الْآفَاقِ وَرَأَى عَبْدُ اللَّهِ کے نسخے لکھوائے اور ان کو چاروں طرف بھیج دیا اور ابْنُ عُمَرَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَالِكَ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور سیکی بن سعید اور مالک نے یہ ذَلِكَ جَائِزَا وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَهْل بات جائز سمجھی اور اہل حجاز میں بعض نے مناولہ کے الْحِجَازِ فِي الْمُنَاوَلَةِ بِحَدِيْثِ النَّبِيَ متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے حَيْثُ كَتَبَ لِأَمِيرِ السَّرِيَّةِ كِتَابًا دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے امیر لشکر کے لئے ایک وَقَالَ لَا تَقْرَأْهُ حَتَّى تَبْلُغَ مَكَانَ كَذَا خط لکھا اور فرمایا: تم اسے نہ پڑھنا جب تک کہ فلاں وَكَذَا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمَكَانَ قَرَأَهُ عَلَى جَگہ نہ پہنچ جاؤ۔جب اس جگہ وہ پہنچا تو اس نے لوگوں نہ کو وہ خط پڑھ کر سنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے النَّاسِ وَأَخْبَرَهُمْ بِأَمْرِ النَّبِيِّ۔حکم سے اُن کو مطلع کیا۔٦٤: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۶۴ ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابراہیم بن سعد نے مجھے بتلایا۔انہوں نے صالح صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابْن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ عبيد الله بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ که حضرت عبداللہ بن عباس نے ان سے بیان کیا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا خط رَجُلًا وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيْمِ دے کر بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے سردار الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيْمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى کو دیدے۔پھر بحرین کے سردار نے وہ خط کسری کو