صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 126 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 126

صحيح البخاری جلد ا ۱۲۶ ٣- كتاب العلم أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ بِالَّذِي أَرْسَلَكَ مالوں میں سے زکوۃ ادا کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس اللهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ نے چچ کہا۔ اس نے کہا: اس ذات کی میں قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو بھیجا ہے۔ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا رَسُوْلُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا ہے؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا پیغامبر قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ اللهُ کہتا تھا کہ ہمارے ذمہ سال میں ایک ماہ کے روزے أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رکھنا بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: میں اسی ذات رَسُوْلُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حِجَّ الْبَيْتِ مَنِ ذات کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: اور آپ کا پیغامبر فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ اللهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ کہتا تھا کہ ہمارے ذمہ بیت اللہ کا حج کرنا بھی ہے جس کو نَعَمْ قَالَ فَوَ الَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ وہاں جانے کی طاقت ہو۔ آپ نے فرمایا: اس نے سیچ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَّلَا أَنْقُصُ فَقَالَ النَّبِيُّ کہا۔ اس نے کہا: پھر میں آپ کو اسی ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ صَدَقَ حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر اس لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ۔ } ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں ان باتوں پر کچھ بڑھاؤں گا نہیں اور نہ ہی گھٹاؤں گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو ضرور صلى الله جنت میں داخل ہوگا۔ تشريح : الْقِرَاةَ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ : : عَرْض يَا مُعَارَضَہ یہ ہے کہ طالب علم اپنا لکھا ہوا پڑھ کر اس غرض کے لئے سنائے کہ اس میں جو غلطی ہو اس کی اصلاح ہو جا سنائے کہ اس میں جو ملی ہو اس کی اصلاح ہو جائے ۔ اپنے استاد کو سنائے اپنے استاد کو سنائے یا استاد کی موجودگی میں اپنی کتاب کا کسی دوسرے سے مقابلہ کرے اور پھر کہے کہ مجھے فلاں استاد نے بتلایا ۔ بعض لوگوں نے اسے جائز نہیں قرار دیا۔ بلکہ حَدَّثَنَا يَا أَخْبَرَنَا کہنے کے لئے خود استاد کے منہ سے سننا ضروری خیال کیا ہے۔ لیکن امام بخاری اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور انہوں نے اس کی تائید میں مختلف لوگوں کے اقوال پیش کئے ہیں۔ امام مالک کے استدلال سے یہ مراد ہے کہ اقرار نامہ میں مثلاً اگر کوئی یہ اقرار کرے کہ میں نے فلاں شخص کو زمین دے دی اور لوگوں کو وہ پڑھ کر سنائے تو سننے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں نے ہمیں گواہ ٹھہرایا۔ حالانکہ بظاہر اس نے ان سے نہیں کہا کہ میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور نہ اس نے اقرار لیا کہ وہ گواہ ہیں۔