صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 125 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 125

صحيح البخاری جلد ا الله ٣- كتاب العلم ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بیان کی ۔ انہوں نے سلیمان سے سلیمان نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے، حضرت انس نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا۔ نبی ﷺ سے روایت کی۔ { * حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ * ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيْرَةِ قَالَ سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثابت حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نُهِينَا فِي نے حضرت انس سے روایت کرتے ہو۔ رتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ صلى الله وہ کہتے تھے: قرآن مجید میں ہم کو اس بات سے روکا گیا الْقُرْآنِ أَنْ تَسْتَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہے کہ نبی علی سے سوال کریں۔ اس لئے ہمیں یہ پسند وَسَلَّمَ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيئَ الرَّجُلُ ہوتا کہ اہل بادیہ میں سے کوئی سمجھدار آدمی آئے اور وہ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَ نَحْنُ آپ سے پوچھے اور ہم سنیں ۔ چنانچہ اہل بادیہ میں سے نَسْمَعُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ایک شخص آیا۔ اس نے کہا: آپ کا پیغامبر ہمارے پاس آیا تھا اور اس نے ہمیں بتلایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ عز وجل نے۔ اس نے پوچھا : کس نے ان میں مفید فَقَالَ أَتَانَا رَسُوْلُكَ فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ أَنَّكَ تَزْعُمُ عز و جل نے آپ کو بھیجا ہے ۔ آپ نے فرمایا: اس نے أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ سچ کہا۔ اس نے پوچھا : اس آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ فَقَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللهَ عَزَّ فرمایا: الله عز وجل نے ۔ اس نے پوچھا: اس زمین کو اور ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے فرمایا: اللہ وَجَلَّ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالْجِبَالَ قَالَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَمَنْ جَعَلَ فِيْهَا چیزیں بنائیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ۔ اس الْمَنَافِعَ قَالَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَبِالَّذِي نے کہا: پھر میں اسی ذات کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس نے خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ اس آسمان کو پیدا کیا اور جس نے اس زمین کو پیدا کیا اور الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ اللهُ جس نے پہاڑوں کو کھڑا کیا اور ان میں مفید چیزیں بنائیں۔ کیا اسی اللہ نے آپ کو بھیجا ہے ؟ آپ نے أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ زَعَمَ رَسُوْلُكَ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا پیغامبر کہتا تھا کہ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَّزَكَوةٍ فِي ہمارے ذمہ پانچ نمازیں ہیں اور ہمارے ذمہ اپنے یہ حدیث صرف نسخة البغدادیہ میں مذکور ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۰)