صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 121 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 121

صحيح البخاری جلد ا ۱۲۱ ٣- كتاب العلم بابه طَرْحُ الْإِمَامِ الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَصْحَابِهِ لِيَخْتَبِرَ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ امام کا اپنے ساتھیوں سے سوال کرنا تا کہ ان کے علم کا امتحان لے ٦٢ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ۶۲ : ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہ سلیمان سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ( بن بلال) نے ہمیں بتلایا۔ (انہوں نے کہا) کہ عبداللہ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن دینار نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر صلى الله سے، حضرت ابن ابن عمر نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثال حَدِّثُوْنِي مَا هِيَ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي ہے۔ مجھے بتلاؤ کہ وہ کونسا ہے؟ حضرت ابن عمرؓ کہتے شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللهِ فَوَقَعَ فِي تھے : اس پر لوگ بیابانوں کے درختوں میں جا پڑے۔ نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ثُمَّ قَالُوْا حَدِّثْنَا مَا حضرت عبد الله ۔ عبداللہ کہتے تھے: میرے جی میں آیا کہ وہ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ۔ کھجور ہے۔ (پس میں شرمایا) پھر لوگوں نے کہا: یا صلى الله رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں بتلائیں وہ کیا درخت ہے؟ فرمایا: وہ کھجور ہے۔ اطرافه: ٦١، ۷۲، ۱۳۱، ۲۲۰۹، ٤٦٩۸، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢، ٦١٤٤۔ تشریح : طَرْحُ الْإِمَامِ الْمَسْئَلَةَ عَلَى أَصْحَابِہ: یہ حدیث جو بھی گزر چکی ہے اس کا معا اعادہ کرنے سے امام بخاری یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی حدیث کا نے ہیں کہ وہ کسی حدیث کا تکرار ایک نئے فائدہ کی غرض سے کریں گے۔ نیز اسے عمو مانٹی سند کے ساتھ دہرائیں گے، تا اس کا پایہ صحت معلوم ہو۔ علاوہ ازیں وہ باب کے عنوان میں ایک معمولی سا تصرف کر کے دقیق در دقیق مسائل کا استنباط کرتے ہیں۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۹۵) جیسا کہ اس کی مثالیں کثرت سے آئیں گی۔ یہاں علم کے متعلق ساتواں ادب بیان کیا ہے اور وہی کہ عالم کوتعلیم دیتے وقت یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ سیکھنے والوں کی طبعی استعداد و جستجو کو اُبھارے اور مشاہدات کی طرف توجہ دلا کر قیاسات کے لئے اُن کے ذہن میں تحریک پیدا کرے۔ عربی زبان میں باطنی امر کو جو پوشیدہ ہوتا ہے ظاہر کرنے کا نام اختبار ہے اور فن تعلیم میں یہ طریقہ سب سے اعلیٰ مانا گیا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو دہرا کر اور اس سے علم کے متعلق نہایت باریک اور مفید استنباط کر کے جو الگ باب قائم کیا ہے وہ صرف اس غرض کو ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ ان کا یہ انداز اس کتاب کے پڑھنے والوں