صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 120 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 120

صحيح البخاری جلد ا ۱۲۰ ٣- كتاب العلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا سے روایت کی وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ اللہ نے يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فرمایا: درختوں میں ایک ایسا درخت ہے کہ اس کے فَحَدِثُوْنِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي پتے نہیں گرتے اور وہ مثال ہے مسلمان کی۔مجھے شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي جتلاؤ کہ وہ کون سا ہے؟ اس پر لوگ لگے بیابانوں کے نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ درختوں میں تلاش کرنے۔حضرت عبداللہ کہتے تھے قَالُوْا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ کہ میرے جی میں آیا کہ وہ کھجور ہے، مگر میں شرمایا۔پھر لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ آپ ہی ہمیں هِيَ النَّخْلَةُ بتلائیں کہ وہ کونسا ہے؟ فرمایا: وہ کھجور ہے۔اطرافه ،۶۲ ،۷۲ ۱۳۱ ۲۲۰۹، ٤٦۹۸، ٥٤٤٤، ٠٥٤٤٨ ٦١٢٢، ٦١٤٤ قَوْلُ الْمُحَدِّثِ حَدَّثَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا وَأَنْبَاَنَا : اس باب کا ماحصل یہ ہے کہ امام بخاری اپنی : تشریح: اس کتاب کی بناء اُن مستند حدیثوں پر رکھیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں اور حضرت ابن عباس اور حضرت انسؓ اور حضرت ابو ہریرۃ کے الفاظ يَرُوِيْهِ عَنْ رَّبِّهِ یا عَنْ رَّبِّكُمْ سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ یہ بتلا نا چاہتے ہیں کہ احادیث نبویہ کی بنیاد وحی جلی یاوحی خفی پر ہے۔یہاں تک کہ آپ کی غلطی یا آپ کا سہو بھی روح القدس سے خالی نہیں۔( مفصل بحث ملاحظہ ہو: آئینہ کمالات اسلام- روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ا۷ تا ۱۲۶) اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ : امام ابن حجر نے مختلف روایتیں نقل کر کے اس حدیث کا مفہوم واضح کیا ہے کہ مسلمان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی کوئی حرکت اور اس کا کوئی فعل بھی بے سود نہیں ہوتا۔جیسے کھجور کا کوئی حصہ بھی ایسا نہیں جو چھوٹے پودے ہونے کی حالت سے لے کر آخری عمر تک فائدے سے خالی ہو۔لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا کے علاوہ بعض دوسری روایات میں کھجور اور اس کے اجزاء کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ایک چیز کا نام لے کر دوسری تمام چیزیں مراد لینے کا نام فن بلاغت میں اکتفا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۹۲ ۱۹۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ بالا باب میں اس حدیث کو لاکر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی مقصد کو مد نظر رکھ کر الفاظ أَنْبَأَنَا وَأَخْبَرَنَا وَحَدَّثَنَا وَفِيمَا يَرُوی وغیرہ کو استعمال کریں گے اور قارئین دیکھیں گے کہ امام موصوف نے ایک چھوٹے سے چھوٹے تصرف سے بھی کتنا بڑا مقصد ادا کیا ہے۔ابواب کے عناوین اور روایات کی ترتیب میں انہوں نے ایک نئے علم کلام کو جمع کر دیا ہے۔جس سے مسلمانوں میں غلط روایتوں اور منطقی سفسطوں سے پیدا شدہ اختلافات کا نہایت خوبی سے ازالہ فرمایا ہے۔