صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 122
صحيح البخاري - جلد ا ۱۲۲ ٣- كتاب العلم کو توجہ دلائے کہ وہ بھی مطالب کتاب کے سمجھنے میں اپنی عقل و فکر سے اس طرح کام لیں جس طرح امام موصوف نے احادیث کی تدوین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا کی پوری پوری تعمیل کی ہے۔باب ٦ : مَا جَاءَ فِي الْعِلْمِ علم کے متعلق وَقَوْلُهُ تَعَالَى : وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور یہ کہا کر کہ اے میرے (طه: ١١٥) رب! مجھے علم میں بڑھا دے۔بَاب الْقِرَاءَةُ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ محدث سے پڑھنا اور محدث کو پڑھ کر سنانا وَرَأَى الْحَسَنُ وَالتَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ اور حسن اور ثوری اور مالک نے (اس طرح) پڑھنا الْقِرَاءَةَ جَائِزَةً وَاحْتَجَّ بَعْضُهُمْ فِي جائز سمجھا اور ان میں سے بعض نے عالم کو سنا کر (اس سے پڑھنے ) کے متعلق حضرت ضمام بن ثعلبہ کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔انہوں نے نبی ﷺ الْقِرَاءَةِ عَلَى الْعَالِمِ بِحَدِيْثِ ضِمَامِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ے سے پوچھا تھا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم اللهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ نماز پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔(اس سے دلیل قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَذِهِ قِرَاءَةٌ عَلَى النَّبِيِّ پکڑنے والے نے ) کہا کہ یہ نبی ﷺ سے پڑھنا ہی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ ضِمَامٌ ہے۔حضرت ضمام نے اپنی قوم کو یہ باتیں بتلائیں اور قَوْمَهُ بِذَلِكَ فَأَجَازُوْهُ وَاحْتَجَّ مَالِكٌ پھر انہوں نے بھی ان کو جائز رکھا اور مالک نے اس بِالصَّتِ يُقْرَأْ عَلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُونَ اقرار نامہ سے بھی دلیل پکڑی ہے جو لوگوں کو پڑھ کر أَشْهَدَنَا فُلَانٌ وَيُقْرَأُ ذَلِكَ قِرَاءَةً عَلَيْهِمْ سنایا جاتا ہے اور پھر وہ کہتے ہیں : ہمیں فلاں نے گواہ وَيُقْرَأُ عَلَى الْمُقْرِئِ فَيَقُولُ الْقَارِئُ ٹھہرایا ہے۔اور اسے اُن پر قرآت کر کے پڑھا جاتا أَقْرَأَنِي فُلَانٌ۔ہے۔ایسا ہی پڑھانے والے کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو پڑھنے والا کہتا ہے کہ مجھے فلاں نے پڑھایا۔1 فتح الباری مطبوعہ بولاق اور انصاریہ کے مطابق یہ عبارت عنوانِ باب ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۱۹۶) بخاری مطبوعه قدیمی کتب خانه آرام باغ کراچی میں الفاظ نُصَلّی الصَّلاۃ ہیں ( جلد اول صفحہ ۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔