صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 115 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 115

صحيح البخاری جلد ا ۱۱۵ دالله الحالي كتَابُ العِلم ٣- كتاب العلم اس میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے طریق روایت اور اس کی صحت و سقم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ضمنا تدوین احادیث کی تاریخ اور روایت کے بارے میں صحابہ کرام کی غایت درجہ احتیاط کا بھی ذکر کیا ہے اور وہ آداب بیان کئے ہیں جو تحصیل علم کے لئے از بس ضروری ہیں اور یہ بھی بتلایا ہے کہ ان کو احادیث کے جمع کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی اور اس کے لئے کیا کیا محنت و مشقت برداشت کی اور لمبے لمبے سفر اختیار کئے اور یہ کہ علم ایک وسیع نا پیدا کنار سمندر ہے۔نیز یہ کہ احادیث کو بیان کرتے وقت وہ اشارہ و کنایہ سے اپنی رائے کا بھی اظہار کریں گے۔امام موصوف رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ بالا مقاصد کو ابواب و احادیث کی تشریح میں ساتھ ساتھ واضح کیا گیا ہے، جیسا کہ مطالعہ سے معلوم ہو جائے گا۔تیسرے باب کی دوسری روایت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی اس غایت درجہ احتیاط اور اہتمام کا پتہ دیتی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب کے ابواب کے عنوان اور احادیث کے انتخاب اور ان کی ترتیب قائم کرنے میں دکھایا ہے۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا کوئی فعل اور کوئی حرکت عبث نہیں ہوتی۔مشار الیہ باب کے ضمن میں امام موصوف کا اس حدیث کو لا نا بتلاتا ہے کہ وہ قارئین کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے احادیث کے لفظ انبانا یا اَخْبَرَنَا یا حَدَّثَنَا کے اختیار کرنے میں بھی کسی نہ کسی مقصد کو مد نظر رکھا ہے۔ایسا ہی ایک باب انہوں نے یہ بھی قائم کیا ہے کہ اگر کوئی اشارہ اور کنایہ سے فتویٰ دے تو کیا یہ جائز ہے اور اس کے جواز کے متعلق آنحضرت ﷺ کے عمل کو پیش کیا ہے۔اس سے بھی درحقیقت یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ مسائل کے متعلق اپنا فتویٰ اشارہ و کنایہ سے بیان کریں گے۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ امام بخاری کی کتاب محض روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ در حقیقت یہ ذخیرہ ہے اس ربانی علم و معرفت کا جو محمد ﷺ کواللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوا۔بَاب ۱ : فَضْلُ الْعِلْمِ علم کی فضیلت وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِيْنَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا (يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ) آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ یعنی جو تم میں سے مومن ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے دَرَجَاتٍ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ انہیں اللہ درجوں میں بلند کرتارہتا ہے اور اللہ جو کچھ تم