صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 114
صحيح البخاري - جلد ا ۱۱۴ ٢ - كتاب الإيمان الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا إِلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ۔(التوبة: ٩١-٩٢) یعنی وہ جو خرچ کرنے یا جہاد کرنے کے لئے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور غم کے مارے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں کہ کیوں وہ اس نیک کام سے محروم رہے ہیں؛ اُن کے دل کی یہ حالت النَّصِيحَةُ لِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ کی صحیح مثال ہے۔یعنی دل میں اس قدر درد ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ وہ معذور ہیں اور ان پر کوئی ملامت نہیں، پھر بھی وہ اپنی محرومی پر بے قرار ہو کر رو ر ہے ہیں۔سی وه خیر خواهی و ہمدردی ہے جو دین کی اصل روح ہے۔یہی ہمدردی و خیر خواہی تمام بنی نوع کے ساتھ ہونی چاہیے۔النَّصِيحَةُ لِرَسُولِه میں بھی یہی کیفیت ہو۔کیونکہ رسالت کا تعلق تمام بنی نوع انسان کے ساتھ ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہمارے سامنے ہے، جس کی شہادت قرآن مجید کے ان الفاظ میں بھی ملتی ہے: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ۔(الشعراء: (۴) یعنی آیا تو اس غم کے مارے اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ مومن کیوں نہیں ہوتے۔مسلمانوں کا یہاں خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ وہ امتیاز اور حق ہے جو انہیں بحیثیت جماعت کا فرد ہونے کے طبعی طور پر حاصل ہے۔ان کا خصوصیت سے ذکر کر دینا دوسروں کے لئے ہمدردی کرنے میں روک نہیں بنتا۔(دیکھئے تشریح حدیث نمبر 1) مغیرہ بن شعبہ: امیر معاویہ کی حکومت کے ایام میں ان کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے۔ان کی وفات شاھ میں ہوئی اور انہوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کو تاوقتے کہ نیا حاکم مقرر ہو، اپنا نائب مقر رکیا تھا اور اسی لئے انہوں نے لوگوں کو یہ نصیحت کی۔مذکورہ بالا واقعہ نقل کر کے امام بخاری در حقیقت اپنی اس خیر خواہانہ نصیحت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو انہوں نے بالفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایمان و اسلام کی بحث کے ضمن میں تمام مسلمانوں کو کی ہے اور انہیں ہر قسم کے اختلاف سے منع کیا ہے اور ایمان و اسلام کے متعلق اپنا غائیہ کمالیہ اعلیٰ سے اعلیٰ بنانے کی طرف انہیں توجہ دلائی ہے۔نیز وقار وسنجیدگی کو اپنا شعار بنانے کے لئے کہا ہے اور اس نصیحت کے ساتھ کتاب الایمان کو ختم کرتے ہیں۔باب کا عنوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں باندھا ہے اور خاتمہ میں ایک صحابی کے الفاظ میں اپنا مقصد بھی بیان کر دیا ہے۔امام بخاری نے اپنی اس کتاب میں شروع سے لے کر آخر تک یہی طریق مسائل کے مطالب سمجھانے میں اختیار کیا ہے۔یعنی ابواب کی ترتیب اور ان کے عنوان قائم کرنے اور احادیث کی سندوں کے انتخاب اور ان کی تقدیم و تاخیر کے ضمن میں اختلافی مسائل کے متعلق صحیح فقہ اور علم کلام کو پیش کیا ہے۔کتاب الایمان کی اس آخری حدیث کے خاتمہ کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں: ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔یعنی جیسے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو نصیحت کی تھی اور آخر میں وہ استغفار پر اپنا مقصد نصیحت ختم کرتے ہوئے منبر سے نیچے اترے تھے، اسی طرح میں بھی مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کتاب الایمان کو ختم کرتا ہوں۔کتاب العلم میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس مخصوص طریق بیان کی صراحت بھی کی ہے۔جیسا کہ اصل موقع محل پر انشاء اللہ اس کا ذکر کیا جائے گا۔وبالله التوفيق۔