صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 116
صحيح البخاری جلد ا ١١٦ ٣- كتاب العلم (المجادلة: ١٢) وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: رَبِّ کرتے ہو اُس سے خوب آگاہ ہے۔نیز اللہ عز وجل زِدْنِي عِلْمًا رطه : ١١٥)۔تشریح: کا یہ فرمانا: رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اے میرے رب مجھے علم میں بڑھا۔يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُم: امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ باب باندھنے میں جو آیت انتخاب کرتے ہیں وہ ان کا مقصد ادا کرنے کے لئے اپنے اندر پورا ذخیرہ رکھتی ہے۔آپ نے فضیلت علم کا باب لا قائم کرتے ہوئے دو آیتیں چنیں ہیں۔ایک یہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيْلَ الْشُرُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ * وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجُونِكُمْ صَدَقَةً ، ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ۔(المجادلة: (۱۳۱۲) ان آیات میں دو قسم کے آدمیوں کے دو درجات بڑھائے جانے کا ذکر ہے ایک اہل ایمان اور دوسرے اہل علم۔اسی ترتیب سے امام موصوف نے ایمان و علم کے متعلق یکے بعد دیگرے احادیث بیان کی ہیں اور دونوں کو ترقی درجات کا سبب قرار دیا ہے۔ایمان بھی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کا وارث بناتا ہے اور علم بھی۔ایمان علم کو اور علم ایمان کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ایمان اپنے اندر اسی طرح نور علم رکھتا ہے جیسے کفر جہالت کی ظلمت کو۔غرض ان دونوں کا تعلق آپس میں نہایت گہرا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے حاشیہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۶ تا ۲۷۳) اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ : چونکہ احادیث کا مطالعہ اور ان کا تذکرہ بھی ایک قسم کی مناجات رسول یعنی اس سے راز و نیاز کی باتیں کرنا ہے۔اس لئے قَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجُونِكُمْ صَدَقَةٌ (المجادلة: ۱۳) کے ماتحت امام موصوف نے وہ آداب ذکر کئے ہیں جو اسلامی تعلیم کی رو سے تحصیل علم کے لئے از بس ضروری ہیں۔اسلامی اصطلاح میں ہر نیک و خالص عمل صدقہ کہلاتا ہے۔رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا: دوسری آیت رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) ہے۔یہ آیت علم حاصل کرنے کے لئے اس طبیعی خواہش اور استعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے جونہایت وسیع پیمانہ پر انسان کی فطرت میں بطور ودیعت کے رکھی گئی ہے۔علم کی فضیلت اس سے عیاں ہے کہ وہ بے پایاں دبے کنار سمندر ہے جس میں انسان جتنا بھی آگے تیرتا چلا جائے اس کی فطرت یہی کہتی چلی جائے گی: رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔پہلا ادب اسلام نے علم کے متعلق یہ سکھلایا ہے کہ انسان جناب الہی میں ہمیشہ یہ دعا کرتار ہے کہ وہ اپنی شان ربوبیت کے طفیل اس کا علم ہمیشہ بڑھا تار ہے۔ترجمہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمہیں یہ کہا جائے کہ مجلسوں میں ( دوسروں کے لیے ) جگہ کھلی کر دیا کرو تو کھلی کر دیا کرو۔اللہ تمہیں کشادگی عطا کرے گا۔اور جب کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔اللہ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خصوصاً اُن کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے۔اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم رسول سے ( کوئی ذاتی ) مشورہ کرنا چا ہو تو اپنے مشورہ سے پہلے صدقہ دیا کرو۔یہ بات تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔