صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 95
صحيح البخاری جلد ا ۹۵ ٢ - كتاب الإيمان قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ذمہ کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا نہیں۔سوائے اس کے کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ تو اپنی خوشی سے اور روزے رکھے۔(حضرت طلحہ ابن عبیداللہ ) کہتے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے اس سے غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ زکوۃ کا بھی ذکر کیا اور اس نے کہا: کیا میرے ذمہ اس الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُوْلُ وَاللَّهِ لَا أَزِيْدُ عَلَى کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟ فرمایا نہیں۔سوائے اس هَذَا وَلَا أَنْقُصُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کے کہ تو اپنی خوشی سے صدقہ دے۔حضرت طلحہ کہتے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔تھے: اس پر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا اور وہ کہہ رہا تھا: بخدا میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ ہی کم۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے۔اطرافه: ۱۸۹۱، ٢٦۷۸، ٦٩٥٦ تشریح الزَّكُوةُ مِنَ الْإِسْلَامِ : امام بخاری علیہ الرحمۃ ایک ایک اشارہ سے اپنے مضمون کو واضح سے واضح کرتے چلے جارہے ہیں۔باب باندھا ہے زکوۃ کا اور قرآن مجید میں زکوۃ کے متعلق بہت سی آیتیں ہیں مگر ان تمام آیات میں سے وہ آیت چنی ہے جس کا تعلق زکوۃ کے ساتھ اتنا نہیں جتنا اخلاص عمل وروح حنیفیت کے ساتھ ہے اور پھر اس آیت کے ماقبل جو مضمون ہے وہ یہ ہے: لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔(البينة: ۲) یعنی اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو کافر ہیں وہ اپنے کفر سے باز نہیں آنے کے، جب تک البينة ان کے پاس نہ آ جائے۔یعنی وہ رسول جو کامل حق کھول کر بیان کرنے والا ہو اور کامل معرفت کی راہ وہ مخلصانہ عبودیت و حنیفیت ہے جو اسلام کی اصل روح ہے اور جو کفار کو ان کے کفر سے نکالنے کا اصل باعث ہو سکتی ہے۔اس باب کے ماتحت جو حدیث لائی گئی ہے اس کے یہ الفاظ قَدْ اَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ قابل غور ہیں۔صدق ایمان اور صدق عمل پر ہی ساری کامیابی کا دارو مدار ہے۔محض زبان کا اقرار کچھ معنی نہیں رکھتا۔مومن ساز لوگ ذرہ نور سے بخاری کا مطالعہ کریں، تا معلوم ہو کہ امام موصوف کا مقصد کیا ہے۔زکوۃ کے متعلق اس آیت و حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کا استدلال کرنے سے مقصد در حقیقت یہ سمجھانا ہے کہ پاکیزگی اور روحانی فلاح کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایمان ہے۔جو خالص صحیح عقائد پر مبنی ہو اور اسلام بھی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ مخلصانہ اعمال ہوں۔اس حدیث سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ لفظ اسلام میں عملی پہلو مدنظر ہے۔ایمان و اسلام دین کے دو جزو اعظم ہیں۔جو پہلو بہ پہلو ایک دوسرے سے سہارا لئے ہوئے کھڑے ہیں۔اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ دونوں کو پہلو بہ پہلو بیان کرتے جارہے ہیں۔کبھی ایمان کے متعلق احادیث لے آتے ہیں۔کبھی اسلام کے متعلق اور ان دونوں کے مابین مشتر کہ حصہ کو واضح کرتے جاتے ہیں۔یعنی اخلاص ورضاء الہی کو۔