صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 96
حيح البخاري - جلد ا ۹۶ بَابِ ٣٥ : اِتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيْمَانِ جنازوں کے ساتھ جانا بھی ایمان سے ہے ٢ - كتاب الإيمان ٤٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ :۴۷: ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجوفی نے بیان کیا،۔عَلِيِّ الْمَنْجُوْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ کہا کہ روح نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ عَنْ عوف نے حسن اور محمد سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسلمان کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ جنازے کے ساتھ ایمان کی وجہ اور رضائے الہی کی خاطر إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى جاتا ہے۔جب تک اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھ لی يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّهُ جاتی اور اس کے دفنانے سے لوگ فارغ نہیں ہو جاتے ، يَرْجِعُ مِنَ الْأَجَرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيْرَاطٍ تب تک وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ دو قیراط أجر مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ لے کر واپس آتا ہے۔ایک ایک قیراط اُحد پہاڑ کے قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيْرَاطٍ تَابَعَهُ برابر ہوگا اور جس نے جنازہ پڑھا اور پھر اس کے دفنانے سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ عثمان موذن نے بھی روح کی یہ حدیث بیان کی۔انہوں مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی نے کہا: ہمیں عوف نے محمد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ۔اطرافه: ۱۳۲۳، ۱۳۲۵۔تشریح: سے حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتلایا۔اِتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيْمَانِ : سابقہ مضمون کو واضح کرنے کے لئے جنازہ کا باب باندھا ہے اور بتلایا ہے کہ عمل کی نوعیت کچھ ہی ہو۔ایک ادنیٰ سے ادنی عمل بھی ، جیسے جنازے کے ساتھ جانا؛ ایمان اور رضائے الہی کی وجہ سے بلحاظ اپنے ثواب کے بہت بڑی عظمت رکھتا ہے۔قِيرَاطٌ : ایک سکے کا نام ہے، جو دینار کا بیسواں حصہ ہوتا ہے۔مطلق قلت کا مفہوم ادا کرنے کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔جیسے اردو میں کوڑی کا لفظ۔امام موصوف نے اس حدیث سے یہ سمجھایا ہے کہ اس ایک معمولی عمل کو یہ اہمیت محض اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا یعنی ایمان اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔