صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 88 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 88

صحيح البخاری جلد ا ٨٨ ٢ - كتاب الإيمان سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ چونکہ ادھر یا اُدھر منہ کرنے کا اصل باعث ایمان تھا۔پس جس چیز پر اعمال کا اصل دارو مدار تھا، وہ اب بھی قائم ہے۔اس لئے محولہ بالا آیت میں اس باعث کا ذکر کیا، جو اعمال صالحہ کا محرک ہے۔صحابہ کرام کا بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا بھی کسی اپنی خواہش کے ماتحت نہ تھا اور بیت اللہ کی طرف منہ کرنا بھی اپنی خواہش کے ماتحت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تھا۔وَكَانَ يُعْجِبُهُ اَنْ تَكُونَ قِبَلَتْهُ قِبَلَ الْبَيْتِ : اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود پسند کرنے اور خواہش رکھنے کے ایک لمبے عرصہ تک بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔اگر بیت اللہ کو قبلہ بنالیتے تو قریش و دیگر عربی قبائل کا ؛ جن کو بیت اللہ سے حد درجہ کی وابستگی تھی ؛ دین اسلام میں داخل ہو جانا آسان تھا۔مگر باوجود اپنی خواہش کے آپ نے بیت المقدس کو نہیں چھوڑا۔کیونکہ سابقہ شریعت کے ذریعہ سے آپ کو یقینی علم تھا کہ مشیت الہی نے لوگوں کے لئے اس کو قبلہ ٹھہرایا ہوا ہے۔اس لئے اپنی خواہش کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت اس وقت تک رکھا جب تک کہ تحویل قبلہ کے متعلق صریح حکم نہیں آ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پاک نمونہ ہمارے لئے ابدالآباد تک ستارہ قطب کی طرح رہنما ر ہے گا کہ ہمارے حرکات وسکنات اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بلکہ اس کی مرضی کے ماتحت ہونے چاہیں۔یہ ہے ایمان کا کمال اور انسان کے سارے اعمال کی زینت۔یادر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ابراہیمی تعلق کی وجہ سے تھی اور نیز ان سابقہ پیشگوئیوں کو مد نظر رکھ کرتھی ، جن کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت اور برکات الہیہ کا مرکز بیت المقدس سے منتقل ہو کر مکہ مکرمہ ہوگا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے تشریح روایت نمبر ۳۔نیز متی باب ۲۳، آیت ۳۷ باب ۲۱ آیت: ۴۳) فَدَارُوُا كَمَا هُمُ قِبَلَ الْبَيْتِ : صحابہ کا نمونہ بھی کیا پیارا ہے۔تحویل قبلہ کی خبرسن کر نماز ہی میں قبلہ رخ ہو گئے اور ایک لمحہ کے لئے بھی تردد نہ کیا۔حالانکہ ایک کام کی عادت کچھ نہ کچھ تو اپنا اثر دکھلاتی ہے۔مگر وہ نہایت سہولت سے رکوع کی حالت میں ہی سب کے سب یکدم قبلہ کی طرف پھر گئے۔گویا فوجی قواعد تھے۔اس کی بھی ضرورت نہ مجھی کہ تحقیق کرلیں۔یہ ہے وہ اعتماد ایک دوسرے کی صداقت پر اور یہ ہے وہ مستعدی جو اسلام اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے کے لئے چاہتا ہے۔اَحَبُّ الدِّينِ إِلى اللهِ الحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ - آستانہ الہی پر جھکے رہنے اور سہولت سے اعمال بجا لانے کا یہ ایک نمونہ ہے۔جس کی مثال امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے اسوۂ حسنہ سے پیش کر کے ایمان و اسلام کی حقیقت آشکار کر دی ہے۔إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ۔قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة: ۱۳۲) انْكَرُوا ذَلِكَ : اس ضمن میں ان یہودیوں کا نمونہ قابل توجہ ہے جو یہ سمجھ کر کہ قبلہ بھی ہمارا ہی قبلہ ہے، توحید و رسالت موسوی کا بھی اقرار ہے، مسلمان تو رات کو بھی مانتے ہی ہیں، اتنا بڑا فرق نہیں؛ یہ سمجھ کر اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔مگر چونکہ یہ اسلام صرف اپنی خواہش کا اسلام تھا، اس لئے وہ تحویل قبلہ پر فورامرتد ہو گئے۔ایسا ایمان ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔اس کے ساتھ انسان کبھی مامون نہیں رہ سکتا۔یہ فرق واضح کرنے اور الحنيفِيَّةُ السَّمْحَةُ کا مفہوم سمجھانے کے لئے مذکورہ بالا حدیث امام بخاری یہاں لائے