صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 87
صحيح البخاری جلد ا ۸۷ ٢ - كتاب الإيمان وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُوْنَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو اور الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا یہ کہ آپ نے پہلی نماز جو اس کی طرف منہ کر کے ) صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ پڑی وہ عصر کی نماز تھی اور آپ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی ۔ جنہوں نے آپؐ کے ساتھ نماز رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مى تھى، ان ، ان میں سے ایک شخص باہر گیا اور ایک م الله مسجد مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُوْنَ فَقَالَ أَشْهَدُ والوں کے پاس سے گزرا اور وہ رکوع میں تھے تو اس بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے ابھی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوْا كَمَا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے) هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَتِ الْيَهُودُ قَدْ نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ جس حالت میں تھے۔ اسی أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے اور جب آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے تو یہودی الْمَقْدِسِ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَلَمَّا وَلَّى بھی خوش تھے اور اہل کتاب (یعنی نصاری ) بھی۔ وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوْا ذَلِكَ قَالَ اور جب آپ نے اپنا منہ بیت اللہ کی طرف پھیرا تو زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ فِي انہوں نے اسے بُرا منایا۔ زہیر کہتے تھے کہ ابو اسحاق حَدِيْثِهِ هَذَا أَنَّهُ مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ نے اپنی اس حدیث میں حضرت براء سے روایت أَنْ تُحَوَّلَ رِجَالٌ وَقُتِلُوا فَلَمْ نَدْرِ مَا کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتلایا کہ کچھ لوگ پہلے قبلہ تَقُوْلُ فِيْهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ پر ہی پیشتر اس کے کہ وہ تبدیل ہوا، فوت ہو گئے تھے اور مارے گئے تھے اور ہم نہیں جانتے کہ ان کے اللهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ ۔ (البقرة: ١٤٤) متعلق کیا کہیں۔ اس لیے اللہ تعالی نے یہ وحی نازل اطرافه: ٣٩٩، ٤٤٨٦، ٤٤٩٢، ٧٢٥٢۔ کی کہ اللہ تعالی تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ تشريح : الصَّلوةُ مِنَ الْإِيمَانِ : سابق حدیث بطور جما معترض کے تھی تاقی مضمون واضح ہوجا همون واح ہو جائے اور اس باب میں پھر اصل مضمون کی طرف عود کر کے بتلایا ہے کہ نماز کو بھی ایمان قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ ایک عمل ہے۔ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمُ ( البقرۃ: ۱۴۴) سے استدلال کیا ہے کہ سوال تو ان نمازوں کے ضائع ہونے کا تھا، جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئیں۔ مگر جواب یہ دیا ہے کہ تمہارے ایمان کو وہ ضائع نہیں کرنے کا۔ اس