صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 86 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 86

صحيح البخاری جلد ا ۸۶ ٢ - كتاب الإيمان بجالانا۔ عنوان باب کے الفاظ بھی حدیث نبوی کے الفاظ ہیں۔ جو امام بخاری نے کتاب الادب المفرد باب سخاوة النفس روایت نمبر ۷ ۲۸ میں موصولاً نقل کئے ہیں اور احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث موصولاً روایت کی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عباس ، جلد اول صفحه ۳۰ ۲ روایت نمبر ۲۰۰۳) لَنْ يُشَادَ الدِّينَ : سے مراد اعمال میں تشدد و مبالغہ کرنا ہے۔ سَدِّدُوا سِدَادٌ سے مشتق ہے۔ یعنی میانہ روی اختیار کرو۔ قَارِبُوا کے ایک تو معنے حدود کے قریب رہنا ہے اور دوسرے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال ایسے ہوں جو دن بدن اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوں۔ الغَدْوَةُ سے مراد دن کا پہلا حصہ - الرَّوْحَةُ دن کا پچھلا حصہ الدُّلْجَةُ رات کا آخری حصہ یعنی ان او حصہ یعنی ان اوقات میں ذکر الہی و دعاؤں سے مدد لو۔ تا تمہیں قرب الہی کا مقام حاصل ہو۔ آنحضرت کا یہ ارشاد قرآن مجید کے اس حکم کے ماتحت ہے: وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلا طَوِيلا ۔ ( الدهر : ۲۶-۲۷) { ترجمہ: اور اپنے رب کے نام کا صبح بھی ذکر کر اور شام کو بھی اور رات کے ایک حصہ میں اس کے حضور سجدہ ریز رہ۔ اور ساری ساری رات اُس کی تسبیح کرتا رہ } امام بخاری کا ان احادیث سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ عقائد کو پیچیدہ در پیچیدہ بنا کر اعمال کی راہ میں مشکلات ڈال دینا یہ اسلام کی روح کے بالکل مخالف ہے۔ آنحضرت علی کا بھی یہ مقصد نہیں ہوا۔ علية صلى الله باب ۳٠: الصَّلَاةُ مِنَ الْإِيْمَانِ نماز بھی ایمان کا ایک جزو ہے وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَ مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ المقدس کی طرف إِيْمَانَكُمْ (البقرة : ١٤٤) يَعْنِي صَلَاتَكُمْ سے مراد تمہاری وہ نماز ہے ؟ ا وہ نماز ہے جو بیت المقدس عِنْدَ الْبَيْتِ۔ منہ کر کے تم نے پڑھی تھی۔ اللہ اس کو ضائع نہیں کرے گا۔ ٤٠ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ قَالَ ۴۰ : ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا: زہیر نے حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ہمیں خبر دی انہوں نے کہا: ابو اسحاق نے حضرت براو عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ پہلے پہل جو وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ في الا مدینہ آئے تو آپ انصار میں سے اپنے عَلَى أَجْدَادِهِ أَوْ قَالَ أَخْوَالِهِ مِنَ نہال یا کہا کہ اپنے ماموؤں کے پاس مہمان ٹھہرے الْأَنْصَارِ وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ اور یہ کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ) سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا سوله یا ستره ماه نماز پڑھتے رہے۔ اور آپ کو یہی اچھا