صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 85 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 85

صحيح البخاری جلد ا ۸۵ ٢ - كتاب الإيمان قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا میں جو شخص جو شخص ایمان کی وجہ سے اور ا اور اللہ کی رضا جوئی کی وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ خاطر روزہ رکھتا ہے اس سے جو بھی گناہ پہلے ہو چکے ہیں، ان سے اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔ اطرافه ۳۵، ۳۷، ۱۹۰۱، ۲۰۰۸، ۲۰۰۹، ۲۰۱۴ ۔ بَاب ۲۹ : الدِّينُ يُسْرٌ دین آسان ہے وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور بی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ کو سب سے أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللهِ الْحَنِيفِيَّةُ زیادہ پیارا دین یہ ہے کہ انسان سیدھا برجوع الی اللہ ہو۔ ہر ایک ٹیڑھے پن سے مبرا ہو اور اعمال کو آسانی السَّمْحَةُ۔ سے بجالانے والا ہو۔ ٣٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ۳۹ ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيّ عَنْ مَّعْنِ بْنِ عمر بن علی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے معن بن محمد مُحَمَّدٍ الْغَفَارِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي غفاری سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ صلى الله علیہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ نے نبی اے سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: دین تو آسان ہے اور جو کوئی بھی دین میں حد سے بڑھے الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا گا تو دین اس کو مغلوب کر دے گا۔ اس لئے ٹھیک راہ غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا چلو اور حدود کے قریب قریب رہو اور خوش رہو اور صبح و وَاسْتَعِيْنُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ شام دعا وذ کرے اللہ تعالی کی مدد طلب کرتے رہو اور مِنَ الدُّلْجَةِ۔ اطرافه: ٥٦٧٣، 6463، ٧٢٣٥۔ تشريح الحنيفية ایسا ہی کچھ پچھلی رات کو بھی ۔ صنف سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں۔ میلان ، ایک طرف جھکنا۔ حنیف کے معنی جھکا ہوا۔ مجاز اسیدھے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لقب تھا۔ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمیشہ جھکے رہتے تھے۔ نہ اعتقاد میں کوئی ٹیڑھا پن تھا نہ عمل میں اَلسَّمْحَةُ سہولت اور آسانی یعنی اعمال آسانی اور خوشی سے