صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 84
صحيح البخاری جلد ا ۸۴ ٢ - كتاب الإيمان تشريح : لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي: جورما: لَوْ ا ن انشق على أمنی بینی اگر یہ خا نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں پڑ جائے گی تو میں ایسا کرتا ۔ اس سے مراد یہ ۔ سے مراد یہ ہے کہ آ کہ حضرت صلی اللہ علیہ و وسلم کو اچھی طرح تجربہ ہو چکا تھا کہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی کمال حرص تھی۔ آپ کے اسوہ حسنہ میں اس قدر قوت جاذبیت اور تاثیر تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال بجالانے میں اپنی امت کا خیال رہتا تھا کہ کہیں آپ کا عمل در آمدان کے لئے ایسا رنگ نہ اختیار کرلے جو ان کو زیادہ مشقت میں ڈال دینے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا آپ کو عشق تھا۔ جیسا کہ مخالفین بھی عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّۂ کے الفاظ میں اس عشق کا ذکر کرتے تھے۔ مگر اس عشق کے ساتھ اپنے نفس پر ضبط بھی تھا۔ عقل نے ایک لمحہ بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ جو لوگ اپنے اعمال میں افراط سے کام لیتے ہیں، ان کے لئے اس میں ایک سبق ہے۔ اندھا دھند اپنے جذبات کے پیچھے پڑ جانا یہ نہ کمال ایمان کی علامت ہے اور نہ کوئی اعلیٰ نیکی ہے۔ حدا وسط پر ہی قائم رہنا نیکی کا کمال ہے، کیونکہ اس میں نفس کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ باب ۲۷ : تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الْإِيْمَانِ رمضان میں نفل پڑھنے کے لئے اُٹھنا بھی ایمان ہی سے ہے ٣٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۳۷ : ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مجھے بتلایا ۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نے مُحميد بن عبدا عبد الرحمن سے۔ انہوں نے حضرت صلى الله ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ علی نے فرمایا: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رمضان میں جو شخص ایمان کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ ہو چکے ہیں، ان سے اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔ رضا مندی کی خاطر اٹھتا ہے تو اس سے جو گناہ پہلے اطرافه: ۳۵، ۳۸، ۱۹۰۱، ۲۰۰۸، ۲۰۰۹، ۲۰۱۴ ۔ بَاب ۲۸ : صَوْمُ رَمَضَانَ احْتِسَابًا مِّنَ الْإِيْمَانِ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر رمضان کے روزے رکھنا بھی ایمان سے ہی ہے ۳۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ۳۸ ہم سے ( محمد ) بن سلام (بیکندی) نے بیان کیا، کہا: محمد بن فضیل نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ کہا بھی بن سعید نے ہمیں جلایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔