صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 83 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 83

صحيح البخاری جلد ا ۸۳ ٢ - كتاب الإيمان نفس بشری ایک دو پہلو عالم ہے۔ ایک پہلو کا تعلق خارجی دنیا سے ہے جس کے مؤثرات صحیفہ نفس پر اپنے اپنے اثرات ڈالتے ہیں۔ نفس کے اس خارجی پہلو کو نفس واعیہ کہتے ہیں اور دوسرا پہلو اس کا وہ باطن ہے جس میں خارج سے آمدہ اثرات اسی طرح غائب ہو جاتے ہیں، جس طرح پتھر پانی میں جا کر غائب ہو جاتا ہے۔ وہ غائب شدہ اثرات پس پردہ رہ کر خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور الگ اپنی ایک نئی دنیا بناتے ہیں۔ اس باطنی دنیا کو عربی زبان میں نفس غیر واعیہ کہتے ہیں۔ نفس واعیہ سے گناہ کے اثر کان اثر کا نفس غیر واعیہ میں جا کر ایسا رواعیہ میں جا کر ایسا چھپ جانا کہ پھر وہ اُبھر نے نہ پائے۔ یہ اصل مفہوم ہے لفظ مغفرت کا جو تو بہ اور نیک اعمال بجالانے اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تکمیل پاتا ہے۔ جو شخص راتوں کو ایک مہینہ بھر اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں گریہ وزاری کرے گا اور ہر گھڑی کو دعا کی قبولیت کا وقت سمجھ کر اس کے حضور بار بار گرتا رہے گا، وہ ضرور اللہ تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوگا اور اس کے باطن سے گناہ کے دھبے دھوئے جائیں گے۔ بَاب ٢٦ : الْجِهَادُ مِنَ الْإِيْمَانِ جہاد بھی ایمان سے ہے ٣٦ : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصِ قَالَ ٣٦ : ہم سے حرمی بن حفص نے بیان کیا، کہا: ہم سے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عبد الواحد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمارہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے ہمیں قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا۔ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ حضرت ابو ہریرہ نے رسول الله الله اللہ علﷺ سے روایت کی کہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْتَدَبَ اللَّهُ آپ نے فرمایا: اللہ (عز وجل) نے اس شخص کے لئے جو لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيْلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا اس کی راہ میں نکلتا ہے۔ یہ اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں یا إِيْمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أُرْجِعَهُ تو اسے مع اس اجر یا مال غنیمت کے جو اُس نے حاصل کیا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيْمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ اے واپس لوٹا دوں گا یا اسے جنت میں داخل کروں گا۔ بشر طیکہ مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے ہی الْجَنَّةَ وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا اسے (جہاد کے لئے ) نکالا ہو اور اگر مجھے اس بات کا فَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا أَقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أَقْتَلُ ثُمَّ تو میں ہر دستہ فوج کے ساتھ جاتا اور میری تو خواہش ہے أَحْيَا ثُمَّ أَقْتَلُ۔ کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں ۔ پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں۔ اطرافه: ۲۷۸۷، ۲۷۹۷، ۲۹۷۲، ۳۱۲۳، ۷۲۲۶، ٧٢۲۷، ٧٤٥٧، ٧٤٦٣۔