صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 82 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 82

صحيح ری جلد ا ۸۲ ٢ - كتاب الإيمان رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابوہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ ﷺ فرماتے تھے: جولیلۃ القدر میں ایمان کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اٹھتا ہے تو جو لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔اطرافه: ۳۷، ۳۸، ۰۸،۱۹۰۱ ریح: بھی گناہ اس کے پہلے ہو چکے ہیں ان سے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔۲۰۱۰ ،۲۰۰۹ ،۲۰ قِيَامُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْإِيْمَانِ: ایمان کے متعلق سلبی اعتبار سے بحث کرنے کے بعد امام بخاریؒ نے چار باب یکے بعد دیگرے ایک ہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے باندھے ہیں۔لیلتہ القدر کی گھڑی پانے کی خاطر جس میں دعا قبول ہوتی ہے؛ نماز تہجد کے لئے اٹھنا، خدا تعالی کی راہ میں جہاد کرنا، خوشی کول سے رمضان میں تہجد کے لئے اٹھنا، رمضان کے روزے رکھنا، یہ سب باتیں ایمان کی ہی وجہ سے میسر ہوتی ہیں۔نیز اعمال تب ہی جا کر مغفرت یعنی تزکیہ نفس کا موجب ہوتے ہیں، جب ایمان اور اللہ تعالی کی رضا جوئی ان کے ساتھ ہو۔مِنَ الْإِيْمَانِ : مِنْ یہاں سبیہ ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ اِيْمَانًا وَّ احْتِسَابًا اس کی تشریح کرتے ہیں۔ہمارے خیالات، ہمارے اخلاق اور ہمارے سارے اعمال اسلامی تعلیم کی رو سے تب ہی کامل روحانیت کا جامہ پہنتے ہیں، جب وہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی کے ماتحت اس کی خوشنودی کے لئے ہوں۔تفصیل کے لئے دیکھئے : اسلامی اصول کی فلاسفی۔زیر عنوان: روحانی حالتیں۔روحانی خزائن جلد، اصفحہ ۳۷۷) ایک تو ان احادیث سے یہ بات واضح کی گئی ہے اور دوسرے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سب باتیں غیر معمولی جستجو اور جدو جہد کی محتاج ہیں۔ان کے کرنے کے لئے انسان کو اپنے نفس کا بہت کچھ مقابلہ کرنا اور تختیاں جھیلنا اور اپنے آرام کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ان باتوں کی توفیق ناقص ایمان سے نہیں ملتی۔کسی کا ایمان جس قدر زیادہ ہوگا وہ اسی قدر جد و جہد اور خوشی نفس سے اللہ تعالی کے احکام کی تعمیل کرے گا۔ایمان کی کسی ناقص حالت پر قانع ہو جانا یا دوسروں کو اس پر مطمئن کر دینا شریعت کو ایک بوجھ بنا دینا ہے۔امام بخاری نے اس مضمون کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ہی واضح کر دیا ہے۔یعنی ایمان کی ایک ایسی حالت بھی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بار بار قربان ہو۔بوجہ اس لذت کے جو وہ اس قربانی میں محسوس کرتا ہے۔جو حدیث باب الدِّينُ يُسرِّ وَقَولُ النَّبِي عالم أَحَبُّ الدَيْنِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ میں لائے ہیں۔وہ بھی اپنے اس مقصد کو واضح کرنے کے لئے لائے ہیں۔غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ : مغفرت سے مراد تزکیہ نفس ہے، جیسا کہ اس سے پہلے حدیث نمبر ۲۰ کی تشریح میں واضح کیا جا چکا ہے کہ نیکیوں کے ذریعہ سے بدیاں پر دہ خفاء میں چلی جاتی ہیں اور جب نیکیوں کا غلبہ ہوتا ہے تو بدیوں کے اثرات نیچے دب جاتے ہیں۔یہی معنے مغفرت کے ہیں۔اس کا مفہوم لفظ بخشش قطعاً ادا نہیں کر سکتا۔مغفرت کا لفظ اپنے اندر وہ فلسفہ رکھتا ہے۔جس کی تصدیق آج علم النفس سے بھی ہوتی ہے۔علم النفس کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ