صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 81 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 81

صحيح البخاری جلد ا AM ٢ - كتاب الإيمان وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ كُنَّ فِيْهِ كَانَ فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں ۔ وہ پورا منافق ہوتا ہے مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ اور جس میں ان خصلتوں میں سے ایک ہی خصلت ہو، مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِّنَ النِّفَاقِ اس میں نفاق کی بھی ایک ہی خصلت ہوگی ۔ جب تک وہ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا اسے نہ چھوڑ دے۔ اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے اور جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا ہے اور جب عہد کرتا ہے تو عہد شکنی کرتا ہے اور جب خَاصَمَ فَجَرَ تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ جھڑتا ہے تو گالی ہے تو گالی بکتا ہے۔ شعبہ نے نے بھی اعمش روایت کرتے ہوئے سفیان کی طرح یہی بیان کیا۔ سے تشریح : عَلامَةُ الْمُنَافِق : ایمان کی بحث : بحث میں نفاق کا ذکر لانے سے بھی وہی مقصود ہے جو کفر اور شرک اور ہر قسم کی بداعتدالی اور ناشائستہ اور ناشائستگی کے ذکر کرنے سے ہے۔ یعنی نفاق بھی ایمان کو ناقص کرنے والا ہے۔ اس باب سے کی دوسری حدیث سے یہ مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ یعنی جیسے جیسے کسی شخص میں ان علامتوں میں سے کوئی علامت پائی جائے گی ویسے ویسے اس میں نفاق زیادہ اور ایمان کم ہوتا جائے گا۔ نفاق کے معنے ہیں ۔ باطن کا ظاہر کے ساتھ مطابق نہ ہونا یا واقعہ کے خلاف ہونا اور نفاق کی جو علامتیں آپؐ نے بتلائی ہیں وہ اس کی صحیح تفسیر ہیں۔ جھوٹ میں انسان کا قول وعدہ خلافی میں انسان کا فعل اور خیانت اور غداری میں اس کی نیت ، یہ سب واقعہ کے خلاف ہوتے ہیں۔ دوسری حدیث میں معاہدہ توڑنا اور گالی دینا مذکور ہے اور یہ بھی واقعہ کے خلاف کرنا یا کہنا ہوتا ہے۔ غرض یہ موٹی موٹی مثالیں ہیں نفاق کی حقیقت بیان کرنے کے لئے ۔ دل میں ایمان نہ ہو زبان پر ہو، یہ بھ پر ہو، یہ بھی حقیقت حال کے خلاف ہے۔ با کے خلاف ہے۔ یا ایمان ہو مگر اقرار نہ ہو، یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔ یا ایمان ہو، عملاً اس کی تصدیق نہ ہو ، یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔ غرض جو بات بھی یہ رنگ رکھے گی وہ نفاق ہوگا۔ چونکہ نفاق بھی ایمانی حالت میں ایک بہت بڑا نقص ہے۔ اس لئے امام بخاری نے ایمان کے بعد اس کا بھی ذکر کیا۔ باب ٢٥ : قِيَامُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْإِيْمَانِ لیلۃ القدر میں نماز تہجد کے لئے اُٹھنا بھی ایمان ہی سے ہے ٣٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا ۳۵ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابو زناد نے ہم سے شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ بیان کیا۔ ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ ابو ہریرہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ