صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 75
صحيح البخاري - جلد 1 فَأَعِيْنُوْهُمْ۔ اطرافه: ٢٥٥٤ ، ٦٠٥٠۔ ۷۵ ٢ - كتاب الإيمان تکلیف دو تو پھر ان کی مدد کیا کرو۔ تشریح : المَعَاصِي : اس باب میں امام بخاری نے معصیت وکفر کے درمیان ایک بار یک فرق بتلایا ہے۔ معصیت کے معنے مطلق نافرمانی ۔ خواہ کسی واجب فع فعل کا کا چھوڑ نا ہو یا کسی حرام فعل کا کرنا اور کا کرنا اور کفر کے مفہوم میں نہ صرف بداعتقادی شامل ہے بلکہ معصیت بھی۔ لَا يُكَفَّرُ صَاحِبُهَا بِارْتِكَابِهَا : کہہ کر اس فرق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یعنی معصیت کے ارتکاب سے کوئی شخص کافر نہ ٹھہرایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص محرمات کو حرام یقین کرتا ہو۔ پھر وہ اس کا مرتکب ہو جائے تو اپنے اعتقاد کے لحاظ سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اختیار کرتے ہوئے ہر لفظ اپنے صحیح مفہوم میں استعمال کرنا چاہیے۔ ( حدیث نمبر ۲۷ بھی دیکھئے ) إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ : حضرت ابوذر نے حضرت بلال کو باپ کے طعنے کے جواب میں مال کا طعنہ دیا تھا۔ کہا: " ابْنُ السَّوْدَاءِ “ کلوٹی یعنی لونڈی کے بیٹے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برا منانے پر حضرت ابوذر نے معذرت کی کہ جو باپ کو گالی دیتا ہے وہ ماں کی سنتا ہے تو آپؐ نے فرمایا۔ ابھی تک تم میں زمانہ جاہلیت کی بے وقوفی باقی ہے۔ اس نا شائستہ حرکت کو آپ نے جاہلیت سے تعبیر فرمایا۔ آپؐ کی اس سے یہ مراد نہ تھی کہ حضرت ابوذر کافر تھے۔ اس واقعہ سے امام بخاری نے ایک تو یہ مسئلہ مستنبط کیا اور دوسرے اس سے یہ سمجھایا ہے کہ شرک بھی ایک گناہ ہے اور یہ طعنہ بھی ایک گناہ ہے۔ مگر ان دونوں میں نتائج کے لحاظ سے فرق ہے۔ شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ جس سے انسان نہ صرف کافر ہی ہو جاتا ہے بلکہ وہ ایسا کافر ہوتا ہے : لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ۔ (النساء:۴۹) کہ وہ مغفرت کا مستحق نہیں رہتا۔ جبکہ اس کے نیچے جتنی معصیتیں ہیں ، ان سب کے لئے مغفرت کی امید ہے۔ غرض اس آیت سے كُفْرٌ دُونَ كُفْر کی مزید تشریح کر دی گئی ہے۔ محولہ بالا آیت کے آخر میں اِثْمًا عَظِيمًا “ کہہ کر شرک کو سب سے بڑا گناہ ٹھہرایا گیا ہے۔ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ: قرآن مجید نے شرک کو بھی کفر گردانا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ۔ (البینہ : ۲) یعنی اہل کتاب میں سے اور مشرکوں میں سے جو کافر ہیں، وہ باز نہیں آنے کے، جب تک بینہ ان کے پاس نہ آجائے ۔ امام ابن حجر نے غالبا اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے آیت مذکورہ بالا میں شرک سے كُفْرٌ بِالرَّسُول مراد لیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۱۶) مگر اس تخصیص کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ جیسا کہ ابھی واضح ہو جائے گا۔ اس باب میں خارجیوں کا رو مقصود ہے جو رڈ مقصود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ گنہگار کا فر ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ یہ اندھا دھند فتوی قرآن مجید کے اس نص صریح یعنی يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ کے بالکل بر خلاف ہے۔ خارجیوں کے نزدیک اگر کوئی گنہگار شخص بغیر توبہ کے مر جاتا ہے تو وہ ہمیشہ کی سزا پاتا ہے۔ مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کے