صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 76
صحيح البخاری جلد ) ۷۶ ٢ - كتاب الإيمان علاوہ دوسرے گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاسکتے ہیں۔ لِمَنْ يَشَاءُ ہر ایک کو نہیں بلکہ انہی کو جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مشیت کا تفصیلاً ذکر فرمایا ہے۔ جیسے ایک جگہ فرماتا ہے: فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقره: ۱۷۴) اضطراری حالت میں زندگی بچانے کے لئے اگر کوئی شخص حرام چیز اس قد رکھاتا ہے جس سے وہ موت سے بچ جاتا ہے تو یہ گناہ بخشا جائے گا ۔ آیت لَا يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ میں بغیر توبہ کے مغفرت کا ذکر ہے۔ ورنہ یوں تو مشرک بھی تو بہ کے ساتھ بخشا جاتا ہے۔ مغفرت کے معنی چھپا دینا۔ بعض نیکیاں بعض بدیوں کو چھپا دیتی ہیں اور اس طرح ان کا ازالہ کر کے انسان کے تزکیہ نفس کا موجب بن جاتی ہیں۔ جیسے فرمایا: وَاخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَاخَرَ سَيْئًا۔ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ هُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا ۔۔۔ (التوبه: ۱۰۲-۱۰۳) { اور کچھ دوسرے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اچھے اعمال اور دوسرے بد اعمال ملا جلا دیے۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر تو بہ قبول کرتے ہوئے جھکے۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ تو ان ان ۔ کے مالوں میں میں ۔ سے صدقہ قبول کر لیا کر، اس ذریعہ سے تو انہیں پاک کرے گا نیز ان کا تزکیہ کرے گا۔ مگر شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ بغیر توبہ کے کوئی نیکی اس کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ یہی مغفرت کا مفہوم ہے جو لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ میں مضمر ہے۔ ان آیات میں شرک کو اِثْمًا عَظِيمًا قرار دے کر فرماتا ہے : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ أَنْفُسَهُمْ بَلِ اللهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلا۔ (النساء: ۷۸ ) یعنی یہ مشرک تزکیہ نفس کا دعوی کرتے ہیں۔ اللہ ہی ہے جس کو چاہتا ہے گناہوں سے پاک کرتا ہے۔ مشرک غیر اللہ کو درمیان میں لاکر معیار تزکیہ سے بالکل گر جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ: إِخْوَانُكُمْ خَوَلَكُمْ کہ کر اخوت کو مقدم رکھا ہے۔ یعنی بنی نوع انسان سب بھائی ہوتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے کہ کسی کے بھائی کو اس کا مددگار بنا دے۔ اس لئے اس کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ حدیث لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لَا خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ کی یہاں عملی تعلیم دی گئی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کیا۔ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو غلامی کی لعنت سے رہائی بخشی اور نہ صرف یہ کہ آپ نے ان کے لئے معمولی ساطعنہ بھی نا پسند فرمایا۔ بلکہ کھانے ، پینے، کپڑا پہنے اور کام لینے میں بھی ان کو مساوات عطا فرمائی۔ آپ نے حضرت بلال کو نہیں ڈانٹا، ا ڈانٹا، بلکہ حضرت ابوذر پر ناراضی کا اظہار کیا جو علم و تقویٰ میں اعلیٰ مرتبہ رکھتے تھے۔ کیونکہ انہی کا حق تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کے لئے جو لمبے عرصہ تک غلام رہ چکے تھے نمونہ بنتے ۔ کتاب الادب، باب ما ينهى من السباب واللعن میں بھی یہی واقعہ بیان ہوگا۔ ربذہ مدینہ سے تین پڑاؤ پر ایک مقام ہے۔ حضرت ابوزر ایک زاہد انسان تھے۔ لوگوں نے جب جائدادیں بنانی اور مال جمع کرنے شروع کئے تو انہوں نے اس کو نا جائز قرار دیا جس سے ایک فتنہ کھڑا ہو گیا ۔ حضرت عثمان نے ان کے لئے مناسب خیال کیا کہ وہ ربذہ میں رہیں تا فتنہ نہ ہو۔