صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 70
صحيح البخاري - جلد ا ٢ - كتاب الإيمان الإسلام محض زبانی اقرار کے ساتھ نہیں۔اسلام بھی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ خالص مصفی ایمان ہو اور ایمان بھی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ حقیقی فرمانبرداری ہو۔یہ مضمون ہے ان آیات کا جن کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے۔ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو تابعداری ظاہر میں ہو اور دل سے نہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں۔مُؤْمِنًا۔۔۔اَوْ مُسْلِمًا : امام بخاری اس باب میں جو حدیث لائے ہیں، اس سے انہوں نے ایمان اور اسلام کے درمیان اصل فرق کو واضح کیا ہے۔یعنی ایمان باطنی کیفیت کا نام ہے جبکہ اسلام کا تعلق ظاہر سے ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب سکھلایا ہے کہ کسی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔اندرونے کا علم یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔جس صحابی کو آپ نے دینا مناسب نہ سمجھا وہ حضرت پھیل بن سراقہ مخلص مہاجر تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے محبت رکھتے تھے۔مگر باوجود اس کے آپ نے حضرت سعد کے بار بار زور دینے پر انہیں یہ ادب سکھلایا اور اس فرق کو محوظ رکھنے کی تعلیم دی جو در حقیقت ایمان واسلام کے درمیان ہے۔ظاہر کی بناء پر ہم کسی کے متعلق اس قدر فتوی دے سکتے ہیں۔جہاں تک کہ ظاہر کا تعلق ہے ظاہری اقرار کی بناء پر کسی کے حقیقی ایمان کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے۔اس میں بھی فرقہ مرجہ کارڈ ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ صرف زبان کے اقرار سے ایک شخص نہ صرف مومن بلکہ جنتی بھی ہوتا ہے خواہ وہ دل سے اعتقاد رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔گویا ان کے نزدیک صرف کلمہ شہادت جنت میں جانے کے لئے کافی ہے۔إنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ اَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةً أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ : اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور لوگوں کا بھی خیال رکھنے کی تعلیم دی۔تا ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے ٹھوکر کھا ئیں۔ایک کمزور پودا جس نگرانی کا محتاج ہوتا ہے بڑا درخت اس قدر محتاج نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایمان کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے ذرا ذراسی بات کا خیال رکھا ہے۔اس امر میں بعض نادان لوگ بہت غلط رویہ اختیار کرتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ ٹھو کر کھانے والے انسان کو ہر ایسے امر سے بچائے رکھیں جو ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے، وہ خود اس کی ٹھوکر کا باعث بن جاتے ہیں اور بجائے مشفقانہ رویہ اختیار کرنے کے ان کمزوروں کے ایمان پر علی الاعلان حملہ کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اور دھکا دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فَدَتْهُ نَفْسِی ) اس امر میں اس قد راحتیاط سے کام لیتے تھے کہ دوسرے کے سامنے کسی کے ایمان کی خاص طور پر تعریف کرنے سے بھی منع فرماتے۔نہ صرف اس لئے کہ بعض وقت منہ پر تعریف کرنا اس شخص کے لئے نقصان کا موجب ہوتا ہے، جس کی تعریف کی جاتی ہے۔بلکہ ایک قسم کے مقابلہ سے بعض وقت گویا دوسرے کے ایمان اور رویہ پر بھی حملہ ہوتا ہے۔آپ نے اس ایک واقعہ میں چار سبق سکھلائے ۱۔اسلام و ایمان میں فرق ۲۔الفاظ کا برمحل استعمال کرنا۔مؤلفتہ القلوب کا خیال رکھنا ٤۔کسی کی بے سوچے سمجھے ایسے طور سے تعریف نہ کرنا کہ دوسروں کے ایمان یا رویہ پر حملہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ حکمت و اصلاح کا خزانہ ہے۔اس کی مثالیں آئندہ بہت سی آئیں گی۔ہیں:-