صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 69 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 69

صحيح البخاری جلد ا ५१ ٢ - كتاب الإيمان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله حضرت سعدؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ صلى الله حضرت صلى الله عروسة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْدًا وَسَعْدٌ رسول اللہ ﷺ نے چند لوگوں کو کچھ مال دیا اور دو جَالِسٌ فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله سعد بھی اس وقت بیٹھے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا کہ جو مجھے اُن سے زیادہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ پسند تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں کو فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ کیوں چھوڑ دیا؟ بخدا میں تو اسے مہ تو اسے مومن سمجھتا ہوں ۔ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ أَوْ مُسْلِمًا آپؐ نے فرمایا: یا مسلم ۔ اس پر میں تھوڑی دیر خاموش فَسَكَتُ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ رہا۔ پھر جو کچھ میں اس کے متعلق جانتا تھا ، اُس نے فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ مجھے مجبور کیا اور میں نے اپنی بات دہرائی اور کہا آپ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ أَوْ نے فلاں سے کیوں اعراض کیا ہے؟ بخدا میں تو اسے مُسْلِمًا { فَسَكَتْ قَلِيلًا * } ثُمَّ غَلَبَنِي مُؤمن ہی سمجھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: یا مسلم ۔ (اس پر تھوڑی دیر میں خاموش رہا۔ ) پھر جو کچھ میں اس مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ کے متعلق جانتا تھا ، اس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اپنی بات دہرائی اور سول الله صلى الله علی نے وہی جواب قَالَ يَا سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ دِیا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے سعد! میں ایک أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي شخص کو دیتا ہوں، مبادا کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں النَّارِ وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ اوندھا نہ گرا دے۔ حالانکہ دوسرا شخص مجھے اس سے وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔ زیادہ ادہ پیارا ہوتا ہے۔ اس حدیث کو یونس اور صالح اور معمر اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت طرفه: ١٤٧٨ تشریح: کرتے ہوئے بیان کیا۔ اس باب میں امام بخاری نے قرآن مجید کی آیتوں کی بناء پر لفظ اسلام یتوں کی بناء پر لفظ اسلام کے دو مختلف مفہوموں کی وضاحت کی ہے۔ ایک تو ظاہری فرمانبرداری اور دوسری حقیقی فرمانبرداری جو اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہے اور ان آیتوں سے ایک بار یک استدلال کیا ہے کہ ایمان کا تعلق اس حقیقی اسلام سے ہے جو اس آیت کا مقصود ہے۔ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الفاظ فَسَكَتُ قَلِيلًا فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۱۰۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے