صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 71
صحيح البخاري - جلد ا ال ٢ - كتاب الإيمان باب ۲۰ : إِفْشَاءُ السَّلَامِ مِنَ الْإِسْلَامِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کو رواج دینا بھی سلام سے ہے وَقَالَ عَمَّارٌ ثَلَاتٌ مَّنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ اور حضرت عمار کہتے تھے۔ تین باتیں جس نے اپنے جَمَعَ الْإِيْمَانَ الْإِنْصَافُ مِنْ نَّفْسِكَ اندر جمع کر لیں اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا۔ وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ وَالْإِنْفَاقُ مِنَ (اول) اپنے نفس سے انصاف کرنا۔ ( دوم ) ہر شخص الْإِقْتَارِ۔ کے لئے سلامتی کی دعا کرنا۔ ( سوم ) با وجود تنگدستی کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ ۲۸ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۲۸: ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيْبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ بتلایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ روایت کی کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ سے پوچھا: کون ساعمل اسلام میں سب سے بہتر السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو کھانا کھلائے اور سلامتی کی دعا دے، اسے بھی جسے تو جانتا ہے اور اسے بھی تَعْرِفْ ۔ اطرافه: ١٢، ٦٢٣٦۔ جسے تو نہیں جانتا۔ تشريح : الأَنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ : اپنے نفس سے انصاف کرنے کے ایک معنی ہیں کہا، معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کا وہ حق ادا کرنا جو کھانے، پینے، پہننے وغیرہ ضروری ام روری امور کے ساتھ تو اتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس کو بلا وجہ تکلیف میں نہ ڈالنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اپنے حقوق کی حدود کے اندر رہنا۔ انسان جو عموماً دوسروں کے معاملہ میں تو انصاف کرتا ہے۔ لیکن جب اپنا معاملہ آ جائے تو انصاف بھول جاتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ انسان اپنے نفس سے دوسرے کا حق دلائے ۔ سلامتی اس وقت مفقود ہوتی ہے، جب ہم میں سے کوئی اپنے حقوق سے آگے بڑھنے لگتا ہے۔ اگر ہم اپنے حقوق پر قانع رہیں اور دوسروں کے حقوق پر ہاتھ نہ ڈالیں تو افراد و بشر کے درمیان امن رہے۔ تیسرے یہ معنی ہیں کہ اپنے واجبات و ذمہ داریوں کو سمجھ کر ادا کرے۔ دوسروں سے جو بات اپنے لئے چاہتا ہے دوسروں کے لئے بھی اپنے نفس سے اس کا مطالبہ کرے۔ غرض ہر معنی میں یہ تعلیم حقیقی سلامتی کا موجب ہے۔