صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 66 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 66

صحيح البخاری جلد ا ۶۶ بَاب ١٨: مَنْ قَالَ إِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ جس نے کہا کہ ایمان اصل میں عمل ہی ہے ٢ - كتاب الإيمان لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَتِلْكَ الْجَنَّةُ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي الَّتِي أُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ أَوْرِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ) یہ وہ جنت ہے (الزخرف : ۷۳) وَقَالَ عِدَّةٌ مِّنْ أَهْلِ جس کے تم بوجہ عمل کرنے کے وارث کئے گئے ہو اور الْعِلْمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَوَرَبِّكَ کئی علماء نے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسَأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ) کے متعلق کہا ہے کہ اس سے (الحجر: ۹۳) عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا الله مرادلَا إِله إِلَّا اللَّهُ کا اقرار ہے اور فرمایا: (لِمِثْلِ هَذَا وَقَالَ لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلَ الْعَامِلُوْنَ۔فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ) اس بات کی خاطر چاہیے کہ عمل (الصافات: ٦٢) کرنے والے عمل کریں۔صل الله ٢٦ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۲۶ ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے وَمُوْسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ قَالَا حَدَّثَنَا بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے ہم إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ ابن شہاب نے ہمیں شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بلایا۔ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے ، سعید نے أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ سے پوچھا گیا: کون ساعمل افضل ہے؟ آپ نے فَقَالَ إِيْمَانَ بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ قِيْلَ ثُمَّ مَاذَا فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔پھر وچھا گیا: اس کے بعد کو نسا عمل؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کون ساعمل ؟ فرمایا: وہ حج ہے جس کے ساتھ نیکیاں ہوں۔قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ قِيْلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ حَجٌ مَّبْرُورٌ۔طرفه: ١٥١٩۔تشریح: إِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ : مختلف استدلالات کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے عمل کی اہمیت بتلانے کے لئے ایک نیا عنوان قائم کیا ہے۔عمل پر اس قدر زور دینے کی اصل وجہ یہی ہے کہ مرجہ کا فتنہ ان دنوں