صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 67 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 67

صحيح البخاری جلد ا ۶۷ ٢ - كتاب الإيمان زوروں پر تھا اور بعض لوگوں نے یہاں تک غلو کیا کہ وہ صرف زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے والے کو جنتی قرار دیتے تھے۔خواہ دل میں ذرہ بھر اعتقاد نہ ہو۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۱۸۴) امام بخاری نے کئی آیات سے استدلال کیا ہے کہ اصل ایمان عمل ہی ہے۔امام نووی رحمہ اللہ نے امام بخاری پر اعتراض کیا ہے کہ روایت نمبر ۲۶ سے تخصیص کا مفہوم نہیں نکلتا۔اگر سیہ مان لیا جائے کہ ایمان دل کا عمل ہے تو ایمان عمل کا جزء ٹھہرے گا۔اس صورت میں وہ سارے کا سارا عمل نہیں ہوسکتا۔عینی نے بھی امام نووٹی کے اس اعتراض کی تائید کی ہے۔امام بخاری اور ان کے ہم خیال علماء کا استدلال آیت تلک الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ سے ہے۔جس کی تائید ما قبل کی آیتوں سے بھی ہوتی ہے۔یہ آیت دو جگہ دارد ہوئی ہے۔ایک سورۃ الاعراف: ۴۴ میں اور دوسرے سورۃ الزخرف : ۷۳ میں۔ان دونوں مقامات میں مومنوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ اعراف میں فرماتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔اور زخرف میں فرماتا ہے: الَّذِينَ آمَنُوا بِايْتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِيْنَ مُسْلِمِینَ سے مراد احکام الہیہ بجالانے والے ہیں۔اس کے بعد دونوں جگہ فرماتا ہے۔یہ وہ جنت ہے، جس کا تمہیں وارث کیا گیا ہے، اس لئے کہ تم عامل تھے۔جنت میں داخل ہونے کی وجہ بیان کرتے وقت لفظ ایمان کی بجائے عمل کا لفظ اختیار کرنے سے یہی سمجھانا مقصود ہے کہ عمل ہی اصل چیز ہے۔اس کے بغیر ایمان ایک ایسی شئے ہے، جس کا کوئی نتیجہ نہیں۔أَيُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ۔۔۔۔اس باب کے ماتحت جس حدیث کو پیش کیا گیا ہے۔اس سے بھی اسی استدلال کی تائید ہوتی ہے۔یعنی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا گیا ہے کہ کون ساعمل افضل ہے۔تو آپ نے جواب دیا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لانا۔گویا آپ نے ایمان کو عمل قرار دیا ہے، بوجہ اس تلازم کے جو دونوں کے درمیان ہے۔عِدة مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ سے مراد حضرت انس بن مالک ، حضرت عبد اللہ بن عمر اور مجاہد وغیرہ ہیں۔الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ: (الحجر: ۹۲-۹۴) یعنی وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔تیرے رب ہی کی قسم ہے کہ ہم ضرور ان سب سے پرسش کریں گے ، ان اعمال کے متعلق جو وہ کرتے تھے۔اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا ذکر کر کے فرمایا: فَسَوْفَ يَعْمَلُونَ۔انہیں عنقریب پتہ لگ جائے گا۔اس سے مذکورہ بالا علماء نے استدلال کیا ہے کہ عَمَّا يَعْمَلُونَ سے مراد مشرکانہ افعال ہیں اور یہ کہ ان سے کلمہ توحید کے متعلق پوچھا جائے گا۔گو اس آیت سے یہ استدلال دور کا ہے۔مگر امام بخاری رحمہ اللہ نے اس خیال کا بھی ذکر کر دیا ہے کہ تا ان علماء کا نقطہ نظر بھی ضمنا معلوم ہو جائے جو ایمان کے مفہوم کو اتنی وسعت دیتے ہیں کہ اس قسم کی آیتوں میں بھی عمل سے مراد ایمان ہی لیتے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ ایک اعتبار سے یہ بھی صحیح ہے کہ ایمان ہی سارے کا سارا عمل ہے۔یعنی ایمان کے بغیر عمل بے معنی شئے ہے۔انسان کے تمام اعمال کا قبلہ رخ ایمان باللہ و ایمان بالرسول ہونا چاہیئے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس کو سب سے افضل قرار دیا ہے۔کیونکہ اسلام کی رو سے اعمال سارے