صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 65 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 65

صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان حدیث کا تعلق نفس مضمون کے ساتھ یہ ہے کہ محض ظاہری اعمال کا بجالا نا حقیقت ایمان کے اعتبار سے کچھ معنی نہیں رکھتا، جب تک انسان کے اندر تغیر نہ ہو۔وہ خطرناک دشمن جن کے متعلق جنگ بطور سزا کے تجویز کی گئی ہے، ان کے لئے بھی تو بہ کی ضرورت ہے، جس کا تعلق در حقیقت دل کے رجوع اور باطنی تبدیلی کے ساتھ ہے۔اگر وہ لوگ خود بخو در جوع با سلام ہو جائیں تو اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ ان کو بوجہ ان کی سابقہ دشمنیوں کے دھتکارا جائے۔بلکہ وہ اسلامی اخوت میں منسلک ہو جائیں گے۔خَلُوا سَبِيْلَهُمْ یعنی ان سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت ابو بکر نے اس حدیث سے استدلال کر کے ان مسلمان باغیوں سے جنگ کی جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔اس واقعہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ حکم صرف کفار کے لئے ہی نہ تھا بلکہ خاص حالات میں ان مسلمانوں کے لئے بھی تھا جنہوں نے بعض ارکان اسلام کی پابندی کرنے سے روگردانی کی جیسا کہ خاص حالات میں ان مشرکوں کے لئے بھی تھا۔جنہوں نے بد عہدی اور غداری سے کام لیا تھا۔(مزید وضاحت کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۳۹-۳۹۲ کی تشریح) إِلَّا بِحَقِّ الْاِسلام کا جملہ نفس مضمون پر اور زیادہ روشنی ڈالتا ہے۔ایک مسلمان مشخص لَا اللَّهُ إِلَّا اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اگر اسلامی حقوق کی نگہداشت نہیں رکھتا تو وہ بھی قابل مواخذہ ہے۔صرف ایمان لا کر وہ سزا سے نہیں بیچ سکتا۔بحق الاسلام کے دو طرح معنے کئے جاسکتے ہیں ایک یہ کہ جہاں اسلامی حقوق کا تعلق ہو۔”حق“ مصدر ہے جو جمع کا مفہوم بھی دیتا ہے۔دوسرے یہ معنی ہیں جہاں اسلام ان مالوں اور جانوں کے لینے کو ضروری قرار دیتا ہو۔حَقَّ الْأَمْرَ : أَثْبَتَهُ وَاَوْجَبَهُ۔(المنجد ، زير ماده ”حق“ یعنی اس کو ضروری قرار دیا۔یہ متعدی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(ملاحظہ ہو روایت نمبر ۱۰۴) يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةَ : شارمین حدیث نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ زکوۃ میں کیا خصوصیت ہے؟ باقی ارکان اسلام کو چھوڑ کر نماز کے ساتھ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل مالی قربانی ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کے اخلاص کا پتہ چلتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : ٩٣) حقیقی نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک کہ تم وہ نہ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔مال بھی دنیا کا ایک بڑا معبود ہے۔اس لئے اسلام نے جہاں اور قربانیاں تجویز کی ہیں، ان میں سب سے پہلے مالی قربانی رکھی ہے، تا انسان کے اخلاص کا پتہ چلے۔اسی اخلاص کی کمی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض مسلمانوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور جھوٹی تو جیہیں تراشنی شروع کر دیں۔غیر مسلم رعایا کے لیے جزیہ یعنی ٹیکس تھا۔مسلمانوں کے لیے علاوہ جنگی خدمت کے زکوۃ بھی تھی۔پس جس طرح ٹیکس نہ ادا کرنا بغاوت کے معنی رکھتا ہے۔اسی طرح ایک مسلمان کا زکوۃ نہ دینا بغاوت کے معنے رکھتا ہے۔اسی لئے حضرت ابو بکر نے ان باغی مسلمانوں سے جنگ کی جس کا واقعہ اسلامی تاریخ میں مشہور ہے۔