صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 64
صحيح البخاري - جلد ) ٢ - كتاب الإيمان اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَيُقِيمُوا اللہ کا رسول ہے اور یہ کہ وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوْا دیں ۔ پس اگر وہ یہ کر لیں تو انہوں نے اپنے خونوں ذَلِكَ عَصَمُوْا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچالیا ، سوائے اس کے کہ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ جہاں اسلام ضروری قرار دیتا ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ تشريح : فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَآتَوُ الزَّكَوةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ : يا آيت یت ور سورۃ تو توبہ بیکا) ابتدائی آیتوں میں سے ہے۔ جس میں ان مشرکوں سے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جنہوں نے بد عہدی اور غداری کی اور اپنے معاہدے پر قائم نہ رہے۔ اس آیت کے ماقبل اور مابعد ان مشرکوں کا ذکر ہے جو اپنے معاہدات پر قائم رہے اور ان سے نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی منع فرمائی بلکہ انہیں پناہ دینے اور ان سے نیک سلوک کرنے کا بھی حکم دیا۔ لیکن جن لوگوں نے صلح کر کے پھر مسلمانوں پر چھاپے مارے اور انہیں دین چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ان کی یہ سزا مقرر کی ہے۔ (دیکھئے سورۃ التوبۃ: ۵ تا ۷ ) أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ۔۔۔۔ امام بخاری نے اس حدیث کو سورہ تو بہ کی مذکورہ بالا آیت کے ماتحت لاکر یہ واضح کر دیا ہے کہ کس قسم کے لوگوں سے یہ جنگ جاری رکھنی تھی۔ النَّاسُ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر صاف الفاظ میں سورۃ توبہ کی مشار اليها آیات میں ہے۔ ہر ایک پڑھنے والا تھوڑے سے تدبر سے بھی معلوم کر سکتا ہے کہ قرآن مجید کا صریح حکم ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) یعنی دین میں جبر نہیں۔ نیز فرماتا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ - ( البقرة : ۱۹۴) یعنی تم ان ( لڑنے والوں ) سے اس وقت تک لڑتے رہو کہ فتنہ نہ رہے اور دین محض اللہ ہی کی خاطر ہو۔ یعنی کسی کے خوف کی وجہ سے اسے اختیار یا ترک نہ کیا جائے۔ قاتل باب مفاعلہ سے ہے۔ ” مُقاتلہ “ معنی ہیں مد مقابل جو لڑنے والا ہے، اس سے لڑنا۔ یہ آیت سورۃ بقرہ کی ہے جو صلح حدیبیہ سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اگر اس کا یہ مفہوم ہے کہ جب تک سارے لوگ مسلمان نہ ہو جائیں ان کی گردنیں اڑاتے چلے جاؤ تو حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ان مشرکوں سے صلح کیوں کی جبکہ مذکورہ بالا حکم موجود تھا۔ اس وقت صحابہ لڑائی پر زور دیتے تھے۔ تعداد بھی کافی تھی۔ جس سے کفار مرعوب تھے اور صلح کو بھی انہوں نے اسی لئے غنیمت سمجھا۔ ورنہ اگر تعداد کم ہوتی تو وہ بھیڑیوں کی طرح ان پر لپک پڑتے۔ غرض جن سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان سے وہی لوگ مراد ہیں جن کے متعلق قرآن مجید صریح فرماتا ہے ۔ قاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ ۔۔۔۔۔ ( البقرة: (۱۹) ان لوگوں سے اللہ کی خاطر لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔ غرض امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کے غلط مفہوم سے بچانے کے لئے باب میں آیت مذکورہ بالا لائے ہیں۔ تا الناس“ سے صحیح مراد کبھی جائے۔ ورنہ بظا ہر نفس مضمون کو دیکھتے ہوئے باب کا عنوان یہ آیت نہیں ہو سکتی تھی۔ امام بخاری علیہ الرحمۃ کے نزدیک حدیث قرآن مجید کے تابع ہے۔