صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 42 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 42

صحيح البخاري - جلد ا ٢ - كتاب الإيمان سے مراد مختلف قوانین، معاملات از قسم بیع و شراء، نکاح و طلاق وغیرہ اور حدود سے مراد اسلامی تعزیرات اور سزائیں اور سنن سے مراد وہ کام جو آنحضرت مے نے کئے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے آیات و احادیث و اقوال صحابہ سے استدلال کرنے کے بعد ایک بہت بڑے مجہتد مجدد زمان کا قول نقل کر کے ایمان کے وسیع مضمون کو بیان کیا ہے۔اس مفہوم کے مطابق دل کا ایمان یہ ہے کہ عرفان ویقین کے ساتھ تصدیق کرنا۔زبان کا ایمان یہ ہے کہ اس کا اقرار کرنا۔باقی اعضا کا ایمان یہ ہے کہ عملاً فرمانبرداری کریں۔انہی کا معنوں سے امام مالک ، ام شافعی ، امام احمد بن حنبل وغیرہ ایمان کے مفہوم کو وسیع سمجھتے ہیں۔برخلاف ان کے امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہاء معرفت قلب اور زبان کے اقرار کا نام ایمان رکھتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۰۳) وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبی: یہ اس آیت کی طرف اشارہ ہے : وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى ، قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي (البقره: ۲۶۱) حضرت ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو مردے کس طرح زندہ کرتا ہے۔فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا۔جواب دیا کہ ہاں کیوں نہیں۔ایمان تو ہے مگر اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔اس آیت سے امام بخاری نے یہ استنباط کیا ہے کہ ایک ایمان بالغیب ہوتا ہے۔جو علم الیقین کا درجہ رکھتا ہے۔یعنی صرف عقلی دلائل و براہین سے کام لے کر علم حاصل کیا جاتا ہے۔جیسے دھوئیں کو دیکھ کر آگ کے وجود کے متعلق استدلالا یقین کیا جائے اور ایک عین الیقین ہوتا ہے۔جس کی بناء مشاہدہ پر ہوتی ہے۔جیسے آگ دیکھ کر آگ کے وجود کا علم ہو۔دونوں حالتوں میں انسان مومن ہی ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عارف باللہ نے مشاہدہ کی ضرورت محسوس کی۔اس لئے نہیں کہ ان کو ایمان نہیں تھا بلکہ اس لئے کہ انہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے۔ایمان بالغیب میں بھی ایک یقین ہوتا ہے۔مگر اس یقین کے ساتھ ایک نئی حالت اطمینان قلب حاصل ہوتی ہے۔ایمان اس حالت ترقی میں دائرہ معقول سے نکل کر احساس قلبی میں داخل ہو جاتا ہے۔قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ اجْلِسُ بِنَا نُؤْمِنُ سَاعَةً: حضرت معاذ بن جبل ایک جلیل القدر صحابی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔امام بخاری اور مسلم نے ان سے ۱۵۷ کے قریب احادیث نقل کی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۱۵) انہوں نے ایک شخص سے کہا: اِجْلِسُ بِنَا نُؤْمِنُ سَاعَةً۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مومن نہیں تھے۔بلکہ یہ مراد ہے کہ ایمان کی باتیں کر کے ایمان تازہ کر لیں۔امام بخاری اس مشہور روایت کو پیش کر کے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کبھی ایمان میں وہ بشاشت و تازگی نہیں رہتی جو ہونی چاہیے اور ایمان کی باتیں کرنے سے وہ بشاشت و تازگی از سرنو پیدا ہو جاتی ہے۔گویا ایمان کے گھٹنے بڑھنے کی یہ بھی ایک صورت ہے۔الْيَقِينُ الْإِيمَانُ كُلَّهُ : یقین ہی سارے کا سارا ایمان ہے۔کیونکہ یقین ہی ہے جو دراصل انسان کو گنا ہوں سے بچاتا ہے اور یقین ہی سے انسان نیکی کرنے پر قادر ہوتا ہے۔کوئی بچی تبدیلی بغیر یقین کے نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ سے سچی محبت اس کے احکام کی پوری پوری اطاعت یقین سے ہوتی ہے۔جس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ فلاں سوراخ میں زہریلا