صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 41
صحيح البخاری جلد ا ام ٢ - كتاب الإيمان ایمان کو بڑھا دیتی ہے اور انسان کے اندر ایک ایسی حالت خشیت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔ ( آل عمران : ۱۷۴) وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا : اس آیت سے امام بخاری نے یہ سمجھایا ہے کہ نہ صرف ایمان کی قلبی کیفیت میں ہی بلکہ عملی فرمانبرداری میں بھی ترقی ہوتی ہے جو اسلام کا اصل مفہوم ہے۔ پوری آیت یوں ہے: وَلَمَّا رَأَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ : قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا۔ (الأحزاب: ۲۳) { اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہی تو ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس نے ان کو نہیں بڑھایا مگر ایمان اور فرمانبرداری میں ۔} غرض ان آیات کو پیش کر کے امام بخاری نے ہر پہلو سے ایمان کے گھٹنے بڑھنے کو واضح کیا ہے۔ چونکہ ان آیات میں ایمان کے بڑھنے کا ذکر ہے۔ اس لئے گھٹنے کا مفہوم ان سے ضمناً ثابت ہوتا ہے۔ الْحُبُّ فِي اللهِ وَالْبُغْضُ فِي اللهِ مِنَ الْإِيْمَانِ : یہ الفاظ ایک حدیث کے ہیں جس کو ابوداؤد نے حضرت ابو امامہ اور حضرت ابوذر سے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب السنة، باب الدليل على زيادة الايمان ونقصانه - نيز باب مجانبة أهل الأهواء وبغضهم ) اور ترمذی نے حضرت معاذ بن انس" کی سند سے اس کو نقل کیا ہے۔ (ترمذی، كتاب صفة القيامة، باب منه حضرت عمرو بن جموح نے یہ حدیث یوں بیان کی ہے: لَا يَحِقُّ الْعَبُدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيْمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ تَعَالَى وَيُبْغِضَ لِلَّهِ۔ (مسند أحمد بن حنبل، جلد ۳،صفحہ ۴۳۰) اور حضرت براء بن عازب نے یوں بیان کی: أَوْثَقُ عُرَى الْإِيْمَانِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ۔ (مصنف ابن الى الله ابی شیبه کتاب الزهد، باب ما ذكر عن نبينا مية في الزهد، حدیث: ۱۶۱۸۵) امام بخاری نے ایمان کو اس حد تک محدود نہیں رکھا۔ جس پر باقی ائمہ کا اتفاق ہے۔ یعنی دل کی معرفت کے ساتھ یقین کرنا زبان سے اقرار کرنا اور اعمال صالحہ بجالانا۔ بلکہ امام بخاری نے محبت و نفرت جیسے قلبی انفعالات و عواطف کو بھی ایمان میں شامل کیا ہے اور حق یہی ہے۔ کیونکہ ایمان جب تک دائرہ علم و معرفت سے احساسات وانفعالات میں تبدیل نہیں ہوتا، تب تک وہ ایک بے جان شئے ہے جس میں نہ قوت ہے اور نہ وہ انسان میں کوئی عملی حرکت پیدا کر سکتا ہے اور نہ حقیقت میں وہ اس کے لئے امن وطمانیت کا موجب بن سکتا ہے۔ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيز : عمر بن عبدالعزیز بن مروان بنوامیہ میں سے تھے اور ۹۹ھ میں خلیفہ ہوئے۔ تقویٰ و زہد اور علم میں علم میں اعلیٰ پایہ کے انسان تھے اور خلفاء راشدین کی سیرت پر تھے۔ ان انہی کی تبلیغ سے۔ سے سندھ کے راجاؤں اور امیروں نے اسلام قبول کیا اور انہیں پہلی صدی کا مجدد مانا گیا ہے۔ عدی بن عدی بن عمیرہ کندی تابعی ہیں اور عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے عراق میں عامل یعنی گورنر تھے اور صحابہ کی اولاد میں سے تھے۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۱۳) إِنَّ لِلَّا يُمَانِ فَرَائِضَ وَ شَرَائِعَ : فرائض سے مراد تمام ارکان ایمان ہیں۔ جیسے اللہ و رسول اور ملائکہ اور کتب سماویہ اور آخرت پر ایمان۔ نیز تمام اصول اسلام جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ ؛ جن کا کرنا ضروری ہے اور شرائع