صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 43 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 43

صحيح البخاری جلد ا ۴۳ ٢ - كتاب الإيمان سانپ چھپا بیٹھا ہے وہ کبھی اس سوراخ میں اُنگلی نہیں ڈالتا۔ سو اسی طرح جس کو اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہوتا ہے اور وہ یقین سے جانتا ہے کہ اس کی نافرمانی ایک ہلاک کر دینے والا زہر ہے اور اس کے احکام کی اطاعت ؛ سلامتی اور امن بخشنے والا تریاق ہے وہ گناہ سے یقینا بچے گا اور اُس کے احکام بجالائے گا۔ لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ : امام بخاری علیہ الرحمة کی عادت ہے کہ وہ آخر میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا یہ قول ایک حدیث نبوی کی بناء پر ہے جسے مسلم نے نو اس کی سند سے مرفوعا نقل کیا ہے اور امام احمد بن حنبل اور ترمذی نے بھی اس روایت کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۱۱۶، فتح الباری جزء اول صفحه ۶۸) مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: اَلا ثُمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ ۔ یعنی گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے۔ (مسلم، كتاب البر والصلة، باب تفسير البر والاثم) حضرت ابن مسعو مسعودؓ کے قول کا ذکر کر کے جو بعض روایتوں کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے اور نیز اس حدیث کی طرف اشارہ کر کے امام بخاری علیہ الرحمہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بغیر کامل یقین و معرفت کے بدیوں سے پورے طور پر نہیں بچا جا سکتا اور چونکہ حقیقی تقوی یہی ہے کہ انسان کا دل گناہ کی ہر قسم کی آمیزش سے پاک وصاف ہو جائے اور حلال اور حرام کے درمیان جو امور مشتبہ ہوتے ہیں، یعنی وہ باتیں جن کے متعلق فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا یہ بھی گناہ ہیں یا نہیں ؟ جب تک انسان ان کو بھی نہ چھوڑ دے متقی نہیں کہلا سکتا اور اس کے لئے کامل عرفان کی ضرورت ہے۔ صرف بالغیب کافی نہیں۔ اس لئے ایمان کی کسی ناقص حالت پر اکتفاء احالت پر اکتفا کرنا نہ صرف ایمان کے اصل مفہوم کو ہی مسخ کرنا ہے ایمان با بلکہ اس کے اصل مقصود سے انسان کو دور ہٹا دینا ہے۔ ا شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ : ساری آیت یوں ہے : شَرَعَ لَكُمُ مِنَ الدِّيْنِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۔۔۔ (الشورى:۱۴) یعنی تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جو نوح اور دیگر انبیاء کے لئے مقرر کیا تھا اور تمہیں بھی ہم نے یہی تاکید کی ہے جو اُن کو کی تھی۔ یعنی یہ کہ دین کے ٹھیک ٹھیک پابند رہو اور اس میں اختلاف کر کے الگ الگ ٹولیاں نہ بنو۔ مجاهد : مجاهد علم تفسیر وفقہ وحدیث میں بہت بلند پایہ رکھتے ہیں اور امام مانے گئے ہیں۔ لوگوں نے ان کے ثقہ ہونے اور ان کی عظمت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ تابعی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت جابر جیسے جلیل القدر صحابہ کی صحبت میں رہے ہیں۔ امام بخاری علیہ الرحمۃ نے مجاہد کی تفسیر کی طرف اشارہ کر کے یہ بتلایا ہے کہ اصول دین میں اختلاف کرنا نہایت خطرناک غلطی ہے۔ جتنا زیادہ تاکیدی حکم اس کے متعلق تھا۔ اسی قدر زیادہ لا پرواہی سے کام لیا گیا ہے۔ ایک ادنیٰ سے فرق پر بھی ایک نیا مذہب گھڑنے کے لئے لوگ تیار ہو جاتے ہیں ۔ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا : اس آیت کا ما قبل یہ ہے وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَالَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَ مِنْهَاجًا (المائده : ۴۹) یعنی اس حق کو چھوڑ کر جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اہل کتاب کی خواہشات کی پیروی