صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 40 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 40

صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان کیا ہے۔قرآن مجید نے پہلی ناقص حالت کو بھی ایمان کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔اسے شک نہیں کہا۔جیسا کہ فرمایا: لِيَزْدَادُوا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ۔۔۔(الفتح: (۵) خود انسان اپنے اندر غور کر کے دیکھ لے کہ ایمان کس طرح مختلف حالات میں مختلف کیفیتیں اختیار کرتا جاتا ہے۔کبھی وہ یقین واخلاص اور سکون و طمانیت سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور کبھی مدہم پڑ جاتا ہے۔پوری آیت یوں ہے: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوْا إِيْمَانًا مَّعَ إِيْمَانِهِمْ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا۔(الفتح: ۵) {وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت اُتاری۔تا کہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں مزید بڑھیں۔اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اللہ دائی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔تین آیتوں سے امام موصوف نے یہ استدلال کیا ہے کہ ایمانی ترقی کے ساتھ عملی ترقی بھی ہوتی رہتی ہے اور ایمان کی طرح عمل کی بھی ناقص حالتیں ہوتی ہیں۔هُوَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ میں ھو“ کا مرجع اسلام ہے اور اسلام میں ایمان و عمل دونوں شامل ہیں۔اس لئے ان آیتوں سے دونوں کا ناقص و کامل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ان میں سے پہلی آیت یوں ہے: إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَا هُمْ هُدًى وَرَبَطْنَا عَلَى ربهم۔(الكهف): ۱۴-۱۵) یعنی نیک اعمال بجالانے کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ایمان میں مضبوط کر دیا تھا۔دوسری آیت یوں ہے: وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى وَالْبَقِيتُ الصَّلِحْتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ مَّرَدًّا۔(مریم : ۷۷) اور اللہ انہیں ہدایت میں بڑھا دے گا جو ہدایت پاچکے ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک اجر کے لحاظ سے بھی بہتر اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں۔} ہدایت سے کیا مراد ہے؟ باقی رہنے والے نیک اعمال جو بلحاظ نتائج و اثرات کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے اچھا ذخیرہ ہیں۔تیسری آیت یہ ہے: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاتَهُمْ تَقُواهم۔(محمد : ۱۸) { اور وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ، ان کو اس نے ہدایت میں بڑھا دیا اور اُن کو اُن کا تقویٰ عطا کیا۔ھدی“ کے معنے راہ راست دکھلانا ، اس پر چلنے کی توفیق دینا، راست روی۔اس کا تعلق اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔جیسا کہ وَانهُم تَقُوهُمُ سے بھی ہدایت کا یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے۔تقوی کے معنی بدیوں سے بچنا اور نیک اعمال بجالانا کیونکہ اصل نجات صرف بدیوں سے بچنے میں نہیں بلکہ نیکی کرنے میں ہے۔وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا: اس آیت سے امام بخاری نے اس خیال کا رد کیا ہے کہ ایمان کے ناقص ہونے سے انسان مومن نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ قرآن مجید نے ناقص حالت میں بھی ان کا نام مومن رکھا ہے۔مثلاً ایک شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان بالغیب رکھتا ہے وہ شہادت کے درجہ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلیات سے ابھی بہرہ ور نہیں ہوا، مگر اس کو بھی مومن ہی کہیں گے۔اس آیت کا ماقبل یہ ہے: وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا۔(المدثر : ۳۲) اس میں کا فراہل کتاب اور مومن تینوں کو علیحدہ علیحدہ اثر قبول کرنے کی وجہ سے تین مختلف گروہ قرار دیا ہے اور ایمان کی کمی سے یہ مراد نہیں کہ وہ شک میں ہیں یا منافق ہیں۔فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمُ إِيمَانًا: اس آیت سے امام بخاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ دلائل و براہین اور نشانات کو دیکھ کر ایمان ضرور بڑھتا ہے۔آیت کے معنی دلیل و برہان اور نشان کے ہیں۔بعض وقت خوف کی حالت بھی