صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 39
صحيح البخاري - جلد ا ۳۹ ٢ - كتاب الإيمان لِقَوْلِهِ تَعَالَى قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) وَمَعْنَى الدُّعَاءِ دُعَاءُ كُمْ۔دعا کے معنی لغت میں ایمان کے بھی ہوتے ہیں۔* } فِي اللُّغَةِ الْإِيْمَانُ۔*} تشریح : بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : یاس حدیث کی طرف اشارہ ہے جو آگے آئے گی۔اس میں بتلایا گیا ہے کہ اسلام کی بنیاد کلمہ شہادت، نماز، زکوۃ اور روزوں پر ہے۔”شہادت“ کے معنی علم رکھنا اور علم کے مطابق اقرار کرنا۔امام بخاری اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام کا کامل مفہوم اپنے اندر قلبی معرفت و یقین ، زبان کے اقرار اور اعمال کی بجا آوری کو شامل رکھتا ہے۔وَهُوَ قَولٌ وَ فِعل : "ھو" کی ضمیر اسلام کی طرف لوٹتی ہے اور ضمنا ایمان کی طرف بھی لوٹتی ہے۔اس سے گر امیہ فرقہ کا رڈ کیا ہے ، جو صرف زبان کے اقرار کا نام ایمان رکھتے ہے اور یہ اقرار ان کے نزدیک احکام شرعیہ جاری کرنے کے لئے کافی ہے اور مرجیہ فرقہ کا بھی رہے، جو بی اعتقاد اور زبانی اقرار کانام ایمان رکھتے ہیں اور اعمال کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دل کے اعتقاد کے ساتھ زبان سے اقرار کرتا ہے اور مرجاتا ہے، کوئی عمل نہیں کرتا تو وہ ان کے نزدیک مومن ہوگا۔مگر یہ ایک مخصوص حالت ہے، جبکہ ایمان لانے کے بعد کسی کو عمل کا کوئی موقع نہیں ملا۔ایسا ہی کرامیہ فرقہ کا قول بھی ایک خاص اعتبار کے لحاظ سے ہے۔لیکن حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اصل اور صحیح مذہب یہی ہے جو امام بخاری نے بیان کیا ہے۔یعنی دل کی معرفت، زبان کا اقرار اور عمل۔یہ تینوں باتیں اسلام و ایمان کے مفہوم میں داخل ہیں۔يَزِيدُ وَ يَنقُصُ : وه بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔اس دلیل سے مذکورہ فرقوں کے نقطہ نظر کا ستم ظاہر کیا ہے۔کسی چیز کی تعریف اس کی ناقص حالت کے اعتبار سے نہیں، بلکہ کامل حالت کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ایمان کی کمزور حالت کو دیکھ کر جس کے ساتھ عمل نہیں یا دل کی معرفت نہیں یا صرف تقلیدی رنگ ہے کہہ دینا کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام ہے اور اس پر سارا انحصار رکھنا یہ ایمان کو اپنی حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔امام بخاری نے ایک مختصر جملہ سے کرامیہ، مرجیہ معتزلہ اور خوارج کے آپس کے اختلافات کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ جو چیز گھٹتی بڑھتی ہے وہ ناقص حالتیں بھی رکھتی ہے اور کامل حالت بھی رکھتی ہے۔اس کو ان دونوں حالتوں کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے صرف ایک پر زور دینا اس کی اصلی صورت کو مسخ کر دیتا ہے۔اس لئے جو لوگ ایمان کے ساتھ معرفت و یقین ، زبانی اقرار اور اعمال صالحہ کی بجا آوری ضروری قرار دیتے ہیں۔وہ ایمان کی کامل حالت کو مد نظر رکھتے ہیں۔چونکہ اسلام میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے تھے جو ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔بلکہ ان کے نزدیک ایمان ناقص حالت میں ایمان نہیں بلکہ شک ہے۔اس لئے امام موصوف نے قرآن مجید کی آیات سے استدلال یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(دیکھئے حاشیہ فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۶۴)