صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 38
صحيح البخاری جلد ا ۳۸ ٢ - كتاب الإيمان ذِكْرُهُ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَانًا فرمانا: (لوگوں کا مومنوں سے یہ کہنا کہ ) ان سے ڈرو۔ (آل عِمْرَان : ١٧٤) وَقَوْلُهُ تَعَالَى وَمَا اس بات نے ان کو ایمان میں اور بھی بڑھا دیا اور اللہ زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا (الأحزاب: ۲۳) تعالیٰ کا یہ فرمانا: انہیں ایمان اور فرمانبرداری میں اس نے وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللهِ مِنَ بڑھا دیا ۔ اللہ کے لئے محبت کرنا اور اللہ ہی کے لئے الْإِيْمَانِ وَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ نفرت کرنا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے اور عمر بن عبد العزیز إِلَى عَدِي بْنِ عَدِي إِنَّ لِلْإِيْمَانِ نے عدی بن عدی کو لکھا کہ ایمان کے کچھ فرائض ہیں اور کچھ قوانین اور کچھ حدود اور کچھ اعمال مسنونہ۔ پس جس فَرَائِضَ وَشَرَائِعَ وَحُدُودًا وَّسُنَنَا فَمَنِ نے ان کو پورے طور پر اختیار کیا، اس نے ایمان کو مکمل اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الْإِيْمَانَ وَمَنْ لَّمْ کر لیا اور جس نے ان کو پورے طور پر اختیار نہ کیا اس نے يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلِ الْإِيْمَانَ فَإِنْ ایمان کو بھی مکمل نہ کیا۔ سو اگر میں زندہ رہا تو عنقریب میں أَعِشْ فَسَأُبَيْتُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا تمہارے لئے ان باتوں کو کھول کر بیان کروں گا تا تم ان وَإِنْ أَمُتْ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ پر عمل کرو اور اگر مر گیا تو میں تمہارے ساتھ رہنے کا اتنا بِحَرِيْصٍ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ خواہش مند بھی نہیں ہوں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام قَلْبِي (البقرة: ٢٦١) وَقَالَ مُعَاذ نے کہا: مگر اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے اور اجْلِسُ بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً وَقَالَ ابْنُ حضرت معاذ نے کہا: ہمارے پاس ما: ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔ ایک پل ایمان کی باتیں کر کے ایمان تازہ کر لیں اور حضرت ابن مَسْعُودِ الْيَقِينُ الْإِيْمَانُ كُلُّهُ وَقَالَ ابْنُ مسعود نے کہا: یقین ہی سارے کا سارا ایمان ہے اور عُمَرَ لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى حضرت ابن عمرؓ نے کہا: بندہ تقویٰ کی حقیقت تک پہنچتا ہی يَدَعَ مَا مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ نہیں، جب تک کہ وہ : کہ وہ جو اس کے سینہ میں کھٹک رہا ہے نہ شَرَعَ لَكُمْ (الشورى: ١٤) أَوْصَيْنَاكَ چھوڑ دے اور مجاہد نے آیت شَرَعَ لَكُمْ کی تفسیر یوں يَا مُحَمَّدُ وَإِيَّاهُ دِيْنًا وَاحِدًا وَقَالَ ابْنُ کی ہے کہ اے محمد ! ہم نے تجھے اور نوح کو ایک ہی دین عَبَّاسٍ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا (المائدة: ٤٩) پر قائم رہنے کی تاکید کی ہے اور حضرت ابن عباس نے کہا: سَبِيلًا وَسُنَّةً۔ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا کے معنی راستہ اور طریقہ عمل کے ہیں۔ { وَدُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) إِيْمَانُكُمْ { اور دُعَاءُ كُمْ سے مراد إِيْمَانُكُمْ ہے۔ اس لئے