صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 36 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 36

صحيح البخاری جلد ا نال العالم كِتَابُ الإِيمَان 000 ٢ - كتاب الإيمان پہلی دوصدیوں میں مسلمانوں کے درمیان مختلف الخیال قوموں کے اختلاط کے سبب سے مسائل دینیہ کے متعلق دقیق در دقیق بحثیں شروع ہو گئی تھیں۔جن کا بالآ خر نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے سے اختلاف کی وجہ سے ہر ایک نے اپنا ایک نیا مذہب قائم کر لیا۔امام بخاری علیہ الرحمہ کے زمانہ میں یہ اختلافات اپنے پورے زوروں پر تھے۔امام موصوف موقع محل کے مطابق ہر اختلافی مسئلہ کے متعلق آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی بناء پر اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتے گئے ہیں۔چنانچہ ایمان کی تعریف میں بھی بہت اختلاف کیا گیا ہے کہ آیا یہ قلبی تصدیق کا نام ہے یا محض زبان سے اقرار کرنا یا قلبی تصدیق و زبانی اقرار دونوں کو ایمان کہتے ہیں اور یہ کہ ان دونوں کے ساتھ اعمال کا شامل ہونا بھی ضروری ہے یا نہیں اور آیا ایمان کے ساتھ معرفت تقلیدی یا استدلالی کا بھی ہونالازمی ہے یا نہیں اور پھر یہ کہ زبانی اقرار ایمان کا رکن ہے یا شرط ہے۔غرض اس قسم کی منطقی دقیق دردقیق بحثیں علماء نے آپس میں چھیڑ رکھی تھیں۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۱۰۳- فتح الباری جزء اول صفحه ۶۵) اور یہ اختلافات محض مختلف اعتبارات کی وجہ سے پیدا ہوئے ورنہ در حقیقت کوئی اختلاف نہ تھا۔مثلاً جنہوں نے ظاہری احکام کے جاری کرنے یا نہ کرنے کو مد نظر رکھا، انہوں نے زبانی اقرار و تسلیم پر زور دیا اور جنہوں نے ایمان کی حقیقت کو مد نظر رکھا ، انہوں نے اعمال کو ضروری قرار دیا۔جنہوں نے عرفان کو مد نظر رکھا ، انہوں نے تقلیدی ایمان کو ساقط قرار دیا۔جنہوں نے کمال کو مد نظر رکھا، انہوں نے دل کی معرفت زبان کے اقرار اعمال صالحہ کے صادر ہونے کو آپس میں لازم و ملزوم قرار دیا۔یعنی ان تینوں سے ایمان کامل ہوتا ہے اور اس میں سے کسی ایک کی کمی سے ایمان ناقص ہوگا۔بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جو ناقص ہے وہ ایمان نہیں ہوگا، بلکہ شک کہلائے گا۔ایمان ایک ہی حالت میں رہتا ہے۔غرض اس قسم کے اختلافات کو امام بخاری نے کتاب الایمان کے پہلے باب میں مدنظر رکھا ہے۔ایمان - لغت میں امن دینے یا امن حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔باب افعال سے ہے اور مجازاً تصدیق کرنے یا بات مان لینے کو بھی کہتے ہیں۔ایمان سے انسان شک، تردد، تکذیب اور مخالفت وغیرہ سے امن میں ہو جاتا ہے۔شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باتوں کو مانے کا نام ایمان ہے۔نیز اس قلبی کیفیت کو بھی ایمان کہتے ہیں جو تصدیق کا اصل موجب ہے اور اس بات کو بھی ایمان کہتے ہیں جو مانی جائے۔اور اسلام-لغت میں اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دینے کو کہتے ہیں اور شریعت میں احکام الہیہ کی فرمانبرداری کرنے کا نام ہے۔یعنی اپنی مرضی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد