صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 35 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 35

صحيح البخاری جلد ) ۳۵ ا - كتاب بدء الوحي سابقہ مضمون کی تائید میں نقل نہیں کیا۔ہاں اتنی احتیاط ضرور کر لی ہے کہ اس کو بطور تخمہ روایت درج کیا ہے، نہ ایسی مستند روایت کے طور پر جو اُن کی شروط کے مطابق ہر طرح سے یقینی الثبوت ہو۔روایت مذکورہ بالا میں ہرقل کی جس خواب کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ یہ اساطیر الاولین میں سے ایک ایسا قصہ ہے جس کو ہر قوم نے اپنے پیشوا کی پیدائش پر چسپاں کیا ہے۔گوتم بدھ کے متعلق بھی یہی کہانی سنی جاتی ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت بھی فرعون کی طرف یہی ظلم منسوب کیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش پر بھی متی باب ۲ آیت ۱۶ میں لکھا ہے کہ ہیرو نے بیت اللحم کے لڑکوں کو قتل کرایا۔جہاں تک حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا تعلق ہے، اس قصہ کے بے بنیاد ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور ہمیں اس بحث سے کیا واسطہ۔آخر ہر قتل کے مشیر بھی عیسائی ہی تھے جو ہیرو کا قصہ بھی یقینی سمجھتے تھے اور اس وجہ سے انہوں نے مشورہ بھی دیا ہوگا کہ یہودی لڑکے قتل کروا دیئے جائیں۔اس روایت سے اسلامی تاریخ اور اس کے راویوں پر زو نہیں پڑتی۔کیونکہ مسلمان راوی یہ نہیں کہتے کہ ہر قل نے ایسا کیا۔بلکہ ابن ناطور کی روایت کی بناء پر اس کے اراکین کے مشورہ دینے کا ذکر کرتے ہیں اور بالکل قرین قیاس ہے کہ انہوں نے اپنی ذہنی معلومات اور رجحانات کی بناء پر ایسا مشورہ دیا ہو۔فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَ قُلَ : یہ ہرقل کی آخری حالت ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہر قل آخر تک اس حالت پر قائم رہا۔یعنی وہ مسلمان نہیں ہوا۔اسلام جیسا کہ آگے آئے گا، زبان سے قبول واقرار کرنے کا نام ہے۔اس نے بظاہر اپنے مسلمان ہونے کا اقرار نہیں کیا۔اس لئے کسی قلبی کیفیت کی بناء پر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اچھے خیالات کے اظہار پر اسے مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔چونکہ وہ اپنی قوم سے ڈر کر یا کسی اور وجہ سے مسلمان نہیں ہوا۔اس لئے وہ اسلِمُ تَسْلَم کی وعید کے مطابق پکڑا گیا اور اس کی رعایا کے گناہ کا وبال ایسا پڑا کہ اس کی سلامتی اور امن کی گھڑیاں دیکھتے دیکھتے مصیبتوں اور دکھوں میں تبدیل ہو گئیں۔وہ سلطنت جو بڑی بڑی جانفشانیوں کے بعد اپنے قبضہ میں لایا تھا، ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میں ، جو چار پانچ سال سے زیادہ نہیں تھا؟ صرف چھ حملوں میں ہی کھو بیٹھا۔نہ صرف یہ بلکہ اپنی قوم کے ہاتھوں سے غداری ، ذلت و لعنت کا تاج پہن کر زیر خاک چھپ گیا۔( گین جلد ۶،۵۔آکلے صفحہ ۲۳۷) أَسْلِمُ تَسلَم کہنے میں تو دوسیدھے سادے لفظ ہیں، مگر یہ ایک ایسا اٹل شاہانہ حکم ہے جو قدرت اور مشیت ایزدی کا کامل مظہر ثابت ہوئے۔جو مصنفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے متعلق یہ کہا کرتے ہیں کہ ان میں وضاحت و تعیین نہیں ہوتی۔ان کے لئے ہر قل کے انجام میں ایک عبرت ناک سبق ہے۔وجی نبوت کی باتوں میں سے یہ ایک نمونہ ہے اور اس وحی کی خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی باتیں دنیا کی عقل میں ناممکن ہوتی ہیں۔مگر بعد میں واقعات و مشاہدات ان کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اٹل ہیں۔ایک بیمار ذہنیت کے تخیلات اور نظارے اپنے ساتھ واقعات کی تصدیق نہیں رکھتے۔ان کا وجود محض خیال ہی خیال ہوتا ہے۔0000000