صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 34
صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي عقیدت مندی کے ان احساسات کے مخالف نہیں بلکہ مطابق ہے، جن کا اظہار ہر قل نے ابوسفیان کے سامنے کیا۔ہر قل کا تو ہم پرست ہونا ، اس کا انجیلوں سے قالیں نکالنا، اس کا ڈراؤنے خواب دیکھنا اور اپنے لوگوں کو نصیحت کرنا اور عملاً مسلمانوں کے مقابل پر خود نہ لڑنا؛ یہ باتیں ایسی ہیں کہ خود عیسائی مصنفین نے بھی ان کا اقرار کیا ہے۔اس لئے ابن شہاب کی مذکورہ روایت کی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔البتہ ابن ناطور راوی کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس کی شخصیت کا سوال قابل تحقیق ہے۔اس نام کی ترکیب تو وہ ہے جو سامی النسل اقوام کی زبانوں کے ساتھ مخصوص ہے اور ناطور عربی میں حارس یعنی نگہبان کو کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۶ ) ہر قل کے زمانہ میں ذکر یا بیت المقدس کالاٹ پادری تھا History Of The Decline And Fall Of The Roman Empire Vol۔4 Chapter XLVI: Troubles in Persia, Part:Ill اور یہ نام بھی دلالت کرتا ہے کہ کوئی وطنی آدمی ہی اس منصب پر مقرر تھا۔زکریا کے باپ کا نام معلوم نہیں ہوسکا۔بے شک بحث کا بہت کچھ دارو مدار ابن ناطور کی شخصیت کے معلوم ہونے پر ہے۔مگر بایں ہمہ اس میں شبہ نہیں کہ اس کنیت کا شخص ابن شہاب سے ضرور ملا۔جیسا کہ ابونعیم نے بھی دلائل النبوۃ میں ابن شہاب کی یہ روایت نقل کی ہے۔علاوہ ازیں ابن ناطور کی طرف جو بیان منسوب کیا گیا ہے۔اس کی تصدیق خارجی قرائن سے بھی ہوتی ہے۔چونکہ اس روایت میں بعض ایسی باتیں ہیں جو سابقہ مستند روایات کی تائید کرتی ہیں۔اس لئے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو بطور مہ روایت سے نقل کیا ہے۔ایک اور امر اس روایت میں قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قل کی طرف یہ قول جو منسوب کیا گیا ہے کہ میں نے آج رات ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ خواب میں دیکھا ہے۔یہ قول کسی مسلمان راوی کا خود تراشیدہ نہیں ہوسکتا۔بلکہ ایسے شخص کا ہے جو عہد نامہ قدیم وجدید سے خوب واقف ہے کیونکہ کتاب استثناء وملا کی نبی وغیرہ کی کتابوں کی رو سے جس نبی کا انتظار تھا اس کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور ختنہ کرانے والوں میں سے ہوگا۔(ماخوذ از ملا کی باب ۳۔یسعیاہ باب ۹ ) ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت کے لئے ابدی عہد کا نشان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ باندھا تھا اور بنی اسرائیل و بنی اسماعیل اس عہد کے لئے مخصوص تھے۔بنی اسرائیل میں سے نبی تو ہوتے رہے مگر ایسا کوئی نبی نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کی مانند صاحب شریعت بھی ہو اور ملک یعنی بادشاہ بھی ہو۔اس لئے ان میں انتظار تھی کہ ایک ملک الختان نبی پیدا ہو گا۔یعنی عہد والا بادشاہ نبی۔اسی کی طرف ہر قل اشارہ کرتا ہے اور اس نبی کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ رومیوں کے ہاتھ سے نجات دے گا۔اس وجہ سے ہر قل کو خوف ہوا اور ارکان سلطنت نے اس کو مشورہ دیا کہ یہودی قتل کرا دیئے جائیں تا اس کی سلطنت محفوظ رہے۔آکلے (Ockley) نے ہرقل کی جس خواب کا ذکر کیا ہے۔اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس سے اس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کا تاج و تخت اس کے ہاتھ سے چھن جائے گا۔جو لوگ روایت مذکورہ کے اس حصہ کا آکلے کی مستقل روایت سے مقابلہ کر کے ذرائد بر سے کام لیں گے ، انہیں اور بھی یقین ہو جائے گا کہ ابن شہاب کی روایت کے مضمون میں ایسے قرائن موجود ہیں جو اس کی صحت کو پایہ ثبوت تک پہنچاتے ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے یونہی